سنن ابي داود
كتاب الترجل— کتاب: بالوں اور کنگھی چوٹی کے احکام و مسائل
باب فِي الْخَلُوقِ لِلرِّجَالِ باب: مردوں کے لیے زعفران لگانا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 4177
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ ابْنِ أَبِي الْخُوَارِ ، أَنَّه سَمِعُ يَحْيَى بْنَ يَعْمَرَ يُخْبِرُ ، عَنْ رَجُلٍ أَخْبَرَهُ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، زَعَمَ عُمَرُ : أَنَّ يَحْيَى سَمَّى ذَلِكَ الرَّجُلَ ، فَنَسِيَ عُمَرُ اسْمَهُ أَنَّ عَمَّارًا ، قَالَ : تَخَلَّقْتُ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ وَالْأَوَّلُ أَتَمُّ بِكَثِيرٍ فِيهِ ذِكْرُ الْغُسْلِ ، قَالَ : قُلْتُ لِعُمَرَ : وَهُمْ حُرُمٌ ؟ قَالَ : لَا ، الْقَوْمُ مُقِيمُونَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` میں نے خود اپنے ہاتھوں میں خلوق ملا ، پہلی روایت زیادہ کامل ہے اس میں ” دھونے کا ذکر ہے “ ۔ ابن جریج کہتے ہیں : میں نے عمر بن عطاء سے پوچھا : وہ لوگ محرم تھے ؟ کہا : نہیں ، بلکہ سب مقیم تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مردوں کے لیے زعفران لگانا کیسا ہے؟`
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے خود اپنے ہاتھوں میں خلوق ملا، پہلی روایت زیادہ کامل ہے اس میں ” دھونے کا ذکر ہے۔“ ابن جریج کہتے ہیں: میں نے عمر بن عطاء سے پوچھا: وہ لوگ محرم تھے؟ کہا: نہیں، بلکہ سب مقیم تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4177]
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے خود اپنے ہاتھوں میں خلوق ملا، پہلی روایت زیادہ کامل ہے اس میں ” دھونے کا ذکر ہے۔“ ابن جریج کہتے ہیں: میں نے عمر بن عطاء سے پوچھا: وہ لوگ محرم تھے؟ کہا: نہیں، بلکہ سب مقیم تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4177]
فوائد ومسائل:
بعض محققین نے اس روایت کو بھی حسن کہا ہے، لہذا معلوم ہوا کہ زعفران کی ممانعت محض احرام کی وجہ سے نہ تھی، بلکہ مردوں کے لیئے عام حالات میں بھی ممنوع ہے۔
بعض محققین نے اس روایت کو بھی حسن کہا ہے، لہذا معلوم ہوا کہ زعفران کی ممانعت محض احرام کی وجہ سے نہ تھی، بلکہ مردوں کے لیئے عام حالات میں بھی ممنوع ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4177 سے ماخوذ ہے۔