سنن ابي داود
كتاب الترجل— کتاب: بالوں اور کنگھی چوٹی کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي الْمَرْأَةِ تَتَطَيَّبُ لِلْخُرُوجِ باب: عورت باہر جانے کے لیے خوشبو لگائے تو کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُبَيْدٍ مَوْلَى أَبِي رُهْمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَقِيَتْهُ امْرَأَةٌ وَجَدَ مِنْهَا رِيحَ الطِّيبِ يَنْفَحُ وَلِذَيْلِهَا إِعْصَارٌ ، فَقَالَ : يَا أَمَةَ الْجَبَّارِ جِئْتِ مِنَ الْمَسْجِدِ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : وَلَهُ تَطَيَّبْتِ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ حِبِّي أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا تُقْبَلُ صَلَاةٌ لِامْرَأَةٍ تَطَيَّبَتْ لِهَذَا الْمَسْجِدِ حَتَّى تَرْجِعَ فَتَغْتَسِلَ غُسْلَهَا مِنَ الْجَنَابَةِ " ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ : الْإِعْصَارُ غُبَارٌ .
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ان سے ایک عورت ملی جس سے آپ نے خوشبو پھوٹتے محسوس کیا ، اور اس کے کپڑے ہوا سے اڑ رہے تھے تو آپ نے کہا : جبار کی بندی ! تم مسجد سے آئی ہو ؟ وہ بولی : ہاں ، انہوں نے کہا : تم نے مسجد جانے کے لیے خوشبو لگا رکھی ہے ؟ بولی : ہاں ، آپ نے کہا : میں نے اپنے حبیب ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اس عورت کی نماز قبول نہیں کی جاتی جو اس مسجد میں آنے کے لیے خوشبو لگائے ، جب تک واپس لوٹ کر جنابت کا غسل نہ کر لے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : «اعصار» غبار ہے ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان سے ایک عورت ملی جس سے آپ نے خوشبو پھوٹتے محسوس کیا، اور اس کے کپڑے ہوا سے اڑ رہے تھے تو آپ نے کہا: جبار کی بندی! تم مسجد سے آئی ہو؟ وہ بولی: ہاں، انہوں نے کہا: تم نے مسجد جانے کے لیے خوشبو لگا رکھی ہے؟ بولی: ہاں، آپ نے کہا: میں نے اپنے حبیب ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ” اس عورت کی نماز قبول نہیں کی جاتی جو اس مسجد میں آنے کے لیے خوشبو لگائے، جب تک واپس لوٹ کر جنابت کا غسل نہ کر لے۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: «اعصار» غبار ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4174]
1) جہاں فتنہ کا اندیشہ نہ ہو وہاں اجنبی عورت سے براہِ راست خطاب کر کے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرنا حق ہے۔
بالخصوص بڑی عمر کے بزرگوں کے لیئے یہ عمل کو ئی عیب شمار نہیں ہوتا۔
2) عورتوں کو جائز نہیں کہ خوشبو لگا کر باہر نکلیں خواہ مسجد ہی جانا ہو۔
ابورہم کے عبید نامی غلام کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا سامنا ایک ایسی عورت سے ہوا جو خوشبو لگائے مسجد جا رہی تھی، تو انہوں نے کہا: اللہ کی بندی! کہاں جا رہی ہو؟ اس نے جواب دیا: مسجد، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم نے اسی کے لیے خوشبو لگا رکھی ہے؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں، انہوں نے کہا: بیشک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ” جو عورت خوشبو لگا کر مسجد جائے، تو اس کی نماز قبول نہیں ہوتی یہاں تک کہ وہ غسل کر لے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4002]
فوائد و مسائل:
(1)
عورت کو گھر سے نکلے وقت خوشبو استعمال کرنا منع ہے۔
(2)
عورت کے لیے نماز باجماعت کےلیے مسجد میں جانا جائز ہے بشرطیکہ زیب و زینت کر کے نہ نکلے بلکہ سادہ لباس میں پردے اور دیگر شرعی آداب کا لحاظ رکھتے ہوئے جائے۔
(3)
بزرگ شخصیت کے لیے جائز ہے کہ اجنبی عورت کو غلطی پر تنبیہ کرے بشرطیکہ اس سے کوئی غلط فہمی پیدا ہونے کا خدشہ نہ ہو جس سے نیک آدمی کی عزت کو خطرہ لاحق ہو جائے۔
(4)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس عورت کو اللہ کا خوف دلانے کے لیے اللہ کی بندی کی بجائے جبار کی بندی کہہ کر مخاطب فرمایا تھا۔
اس میں ڈانٹ کا پہلو بھی شامل تھا۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ عورت کو گھر سے سادگی کے ساتھ باہر نکلنا چاہیے، عورت گھر میں رہ کر خوشبو استعمال کر سکتی ہے، جب اس نے نماز کے لیے مسجد میں آنا ہو یا بازار جانا ہوتو خوشبو ہرگز استعمال نہ کرے، اگر خوشبو لگا کر مسجد میں جائے گی تو اس کی نماز قبول نہیں ہوگی، اسی طرح جب عورت خوشبو لگا کر بازار وغیرہ جائے گی تو اس کو زانیہ کہا گیا ہے۔
افسوس کہ موجودہ دور میں شادی بیاہ کے موقع پر عورتیں خوشبو بھی استعمال کرتی ہیں اور نیم برہنہ حالت میں بھی ہوتی ہیں، کیا ہو گیا ہے امت مسلمہ کو، وہ کیوں اسلام سے محبت نہیں کرتی۔ مرد و خواتین کی حقیقی عزت و فلاح قرآن و حدیث کی اطاعت میں ہے، نہ کہ یہود و نصاریٰ کی نقالی میں۔