حدیث نمبر: 4171
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيَكٌ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : " لَا بَأْسَ بِالْقَرَامِلِ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : كَأَنَّهُ يَذْهَبُ إِلَى أَنَّ الْمَنْهِيَّ عَنْهُ شُعُورُ النِّسَاءِ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : كَانَ أَحْمَدُ يَقُولُ الْقَرَامِلُ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سعید بن جبیر کہتے ہیں` بالوں کی چوٹیاں بنا کر کسی چیز سے باندھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : گویا وہ اس بات کی طرف جا رہے ہیں کہ جس سے منع کیا گیا ہے وہ دوسری عورت کے بال اپنے بال میں جوڑنا ہے نہ کہ اپنے بالوں کی چوٹی باندھنی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : احمد کہتے تھے : چوٹی باندھنے میں کوئی حرج نہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الترجل / حدیث: 4171
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, شريك عنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 148
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18679) (ضعیف منکر) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´دوسرے کے بال اپنے بال میں جوڑنے پر وارد وعید کا بیان۔`
سعید بن جبیر کہتے ہیں بالوں کی چوٹیاں بنا کر کسی چیز سے باندھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: گویا وہ اس بات کی طرف جا رہے ہیں کہ جس سے منع کیا گیا ہے وہ دوسری عورت کے بال اپنے بال میں جوڑنا ہے نہ کہ اپنے بالوں کی چوٹی باندھنی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: احمد کہتے تھے: چوٹی باندھنے میں کوئی حرج نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4171]
فوائد ومسائل:
یہ قول سندََا ضعیف ہے، تاہم موباف (دھاگوں) کی بنی چو ٹی) کے استعمال میں کو ئی حرج معلوم نہیں ہوتا، امام احمد ؒ کے قول سے بھی واضح ہے۔
واللہ اعلم
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4171 سے ماخوذ ہے۔