سنن ابي داود
كتاب الترجل— کتاب: بالوں اور کنگھی چوٹی کے احکام و مسائل
باب فِي صِلَةِ الشَّعْرِ باب: دوسرے کے بال اپنے بال میں جوڑنے پر وارد وعید کا بیان۔
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ أُسَامَةَ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لُعِنَتِ الْوَاصِلَةُ وَالْمُسْتَوْصِلَةُ وَالنَّامِصَةُ وَالْمُتَنَمِّصَةُ وَالْوَاشِمَةُ وَالْمُسْتَوْشِمَةُ مِنْ غَيْرِ دَاءٍ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَتَفْسِيرُ الْوَاصِلَةِ الَّتِي تَصِلُ الشَّعْرَ بِشَعْرِ النِّسَاءِ وَالْمُسْتَوْصِلَةُ الْمَعْمُولُ بِهَا ، وَالنَّامِصَةُ الَّتِي تَنْقُشُ الْحَاجِبَ حَتَّى تُرِقَّهُ وَالْمُتَنَمِّصَةُ الْمَعْمُولُ بِهَا ، وَالْوَاشِمَةُ الَّتِي تَجْعَلُ الْخِيلَانَ فِي وَجْهِهَا بِكُحْلٍ أَوْ مِدَادٍ وَالْمُسْتَوْشِمَةُ الْمَعْمُولُ بِهَا .
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ملعون قرار دی گئی ہے بال جوڑنے والی ، اور جڑوانے والی ، بال اکھیڑنے والی اور اکھڑوانے والی ، اور بغیر کسی بیماری کے گودنے لگانے والی اور گودنے لگوانے والی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : «واصلة» اس عورت کو کہتے ہیں جو عورتوں کے بال میں بال جوڑے ، اور «مستوصلة» اسے کہتے ہیں جو ایسا کروائے ، اور «نامصة» وہ عورت ہے جو ابرو کے بال اکھیڑ کر باریک کرے ، اور «متنمصة» وہ ہے جو ایسا کروائے ، اور «واشمة» وہ عورت ہے جو چہرہ میں سرمہ یا سیاہی سے خال ( تل ) بنائے ، اور «مستوشمة» وہ ہے جو ایسا کروائے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ملعون قرار دی گئی ہے بال جوڑنے والی، اور جڑوانے والی، بال اکھیڑنے والی اور اکھڑوانے والی، اور بغیر کسی بیماری کے گودنے لگانے والی اور گودنے لگوانے والی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «واصلة» اس عورت کو کہتے ہیں جو عورتوں کے بال میں بال جوڑے، اور «مستوصلة» اسے کہتے ہیں جو ایسا کروائے، اور «نامصة» وہ عورت ہے جو ابرو کے بال اکھیڑ کر باریک کرے، اور «متنمصة» وہ ہے جو ایسا کروائے، اور «واشمة» وہ عورت ہے جو چہرہ میں سرمہ یا سیاہی سے خال (تل) بنائے، اور «مستوشمة» وہ ہے جو ایسا کروائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4170]
اگر کسی بیماری وغیرہ کی وجہ سے کسی عورت کے بال جھڑ جائیں تو مناسب حد تک وِگ وغیرہ استعمال کر سکتی ہے۔
واللہ أعلم