حدیث نمبر: 4165
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَتْنِي غِبْطَةُ بِنْتُ عَمْرٍو الْمُجَاشِعِيَّةُ ، قَالَتْ : حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي أُمُّ الْحَسَنِ ، عَنْ جَدَّتِهَا ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ هَنْدَ بِنْتَ عُتْبَةَ قَالَتْ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ بَايِعْنِي ، قَالَ : " لَا أُبَايِعُكِ حَتَّى تُغَيِّرِي كَفَّيْكِ كَأَنَّهُمَا كَفَّا سَبُعٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! مجھ سے بیعت لے لیجئیے ، تو آپ نے فرمایا : ” جب تک تم اپنی دونوں ہتھیلیوں کا رنگ نہیں بدلو گی میں تم سے بیعت نہیں لوں گا ، گویا وہ دونوں کسی درندے کی ہتھیلیاں ہیں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الترجل / حدیث: 4165
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, قال الحافظ ابن حجر في غبطة و أم الحسن وجدتھا : ’’ وفي إسناده مجهولات ثلاث‘‘ (التلخيص الحبير 236/2), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 148
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17994) (ضعیف) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´عورتوں کے لیے خضاب (مہندی) کے استعمال کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اللہ کے نبی! مجھ سے بیعت لے لیجئیے، تو آپ نے فرمایا: جب تک تم اپنی دونوں ہتھیلیوں کا رنگ نہیں بدلو گی میں تم سے بیعت نہیں لوں گا، گویا وہ دونوں کسی درندے کی ہتھیلیاں ہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4165]
فوائد ومسائل:
یہ روایت ضعیف ہے، اس لیئےعورتوں کے لیئے ہاتھوں کا مہندی دے رنگنا ضروری یعنی فرض و واجب نہیں ہے، جیسا کہ اس روایت سے متبادر ہو تا ہے، تاہم مردوں سے امتیاز کے لیئے عورت کا مہندی لگانا دوسرے دلائل سے ثابت ہے، اس لیے اس کے استحباب (پسندیدہ عمل ہونے) میں کوئی شک نہیں، مگر اس کا استعمال اس طرح جائز نہیں، جیسے آج کل ہاتھوں، کلائیوں اور پاؤں پر بھی بیل بوٹے بنائے جاتے ہیں کہ جس نے نا بھی دیکھنا ہو وہ بھی دیکھے۔
یہ صورتحال صریحاََ حرام ہے کہ عورت غیروں کے لیئے خوامخوا کشش کا باعث بنتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4165 سے ماخوذ ہے۔