سنن ابي داود
كتاب الترجل— کتاب: بالوں اور کنگھی چوٹی کے احکام و مسائل
باب فِي إِصْلاَحِ الشَّعْرِ باب: بالوں کو سنوارنے اور آراستہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4163
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ كَانَ لَهُ شَعْرٌ ، فَلْيُكْرِمْهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کے پاس بال ہوں تو اسے چاہیئے کہ وہ انہیں اچھی طرح رکھے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´بالوں کو سنوارنے اور آراستہ کرنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس کے پاس بال ہوں تو اسے چاہیئے کہ وہ انہیں اچھی طرح رکھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4163]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس کے پاس بال ہوں تو اسے چاہیئے کہ وہ انہیں اچھی طرح رکھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4163]
فوائد ومسائل:
بال رکھے ہوں تو انہیں سنوار کر رکھنا لازم ہے، مگر باقاعدہ اہتمام کے ساتھ دھونے ارو تیل کنگھی کے لیے ایک دن کا وقفہ ہونا چاہیئے۔
بال رکھے ہوں تو انہیں سنوار کر رکھنا لازم ہے، مگر باقاعدہ اہتمام کے ساتھ دھونے ارو تیل کنگھی کے لیے ایک دن کا وقفہ ہونا چاہیئے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4163 سے ماخوذ ہے۔