سنن ابي داود
كتاب اللباس— کتاب: لباس سے متعلق احکام و مسائل
باب فِي اتِّخَاذِ السُّتُورِ باب: رنگین اور نقش و نگار والے پردے لٹکانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4150
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الْأَسَدِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَ : وَكَانَ سِتْرًا مَوْشِيًّا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´فضیل سے یہی حدیث مروی ہے` اس میں ہے کہ وہ ایک منقش پردہ تھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´رنگین اور نقش و نگار والے پردے لٹکانے کا بیان۔`
فضیل سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ وہ ایک منقش پردہ تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4150]
فضیل سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ وہ ایک منقش پردہ تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4150]
فوائد ومسائل:
مقرب لوگوں کو بعض مباح چیزیں بھی ناروا ہوتی ہیں اور اہل خانہ کے پردے کے لئے کپڑا لٹکانا اگر واقعی ٖضروری ہو تو اس کا اہتمام کرنا واجب ہے، مگر بے مقصد زیب وزینت کے لئے دیواروں پر پردے لٹکانا لایعنی کام ہے جو اسراف اور تبذیرمیں آتا ہے واجبی پردے کے لئے بھی سادہ کپڑے پر قناعت کرنی چاہیے۔
مسلمان کو غیر ضروری زینت دنیا میں مشغول ہو جانا کسی طرح مفید نہیں۔
مقرب لوگوں کو بعض مباح چیزیں بھی ناروا ہوتی ہیں اور اہل خانہ کے پردے کے لئے کپڑا لٹکانا اگر واقعی ٖضروری ہو تو اس کا اہتمام کرنا واجب ہے، مگر بے مقصد زیب وزینت کے لئے دیواروں پر پردے لٹکانا لایعنی کام ہے جو اسراف اور تبذیرمیں آتا ہے واجبی پردے کے لئے بھی سادہ کپڑے پر قناعت کرنی چاہیے۔
مسلمان کو غیر ضروری زینت دنیا میں مشغول ہو جانا کسی طرح مفید نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4150 سے ماخوذ ہے۔