حدیث نمبر: 4147
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ حَيَّانَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " كَانَتْ ضِجْعَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گدا چمڑے کا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری تھی ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللباس / حدیث: 4147
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2082)
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/ الزہد 11 (4151)، وانظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: 16951) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 6456 | صحيح مسلم: 2082 | سنن ترمذي: 1761 | سنن ترمذي: 2469 | سنن ابي داود: 4146 | سنن ابن ماجه: 4151

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6456 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6456. سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کا بستر چمڑے کا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6456]
حدیث حاشیہ: یہ تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر وتکیہ۔
آج اکثر مدعیان عمل بالسنہ کیا ایسی زندگی پر قناعت کر سکتے ہیں جن کے عیش کو دیکھ کر شاید فرعون وہامان بھی محو حیرت ہو جائیں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6456 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6456 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6456. سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کا بستر چمڑے کا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6456]
حدیث حاشیہ:
(1)
ایک حدیث میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنا مشاہدہ بیان کرتے ہیں کے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے اور اس کے نشانات آپ کے جسم مبارک پر نمایاں تھے اور سر کے نیچے چمڑے کا تکیہ تھا جس میں کھجور کی چھال تھی۔
(صحیح البخاري، اللباس، حدیث: 5843) (2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ایک حدیث نقل کی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما کے پاس ایک عورت آئی اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر دیکھا جو ایک تہ شدہ چادر پر مشتمل تھا۔
اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک بستر بھیجا جس میں اون بھری ہوئی تھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر آئے اور اسے دیکھا تو فرمایا: ’’عائشہ! اسے واپس کر دو،اللہ کی قسم! اگر میں چاہوں تو اللہ تعالیٰ ان پہاڑوں کو سونے اور چاندی میں بدل دے۔
‘‘ (فتح الباري: 354/11، والصحیحة للألباني، حدیث: 2484)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6456 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2082 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ گاؤ تکیہ جس پر آپ ٹیک لگاتے تھے، چمڑے کا تھا، جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5446]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
أدم: أديم کی جمع ہے، رنگا ہوا چمڑا۔
(2)
ليف: کھجورکی چھال۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2082 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2469 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´باب:۔۔۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چمڑے کا ایک تکیہ (بستر) تھا جس پر آپ آرام فرماتے تھے اس میں کھجور کی پتلی چھال بھری ہوئی تھی ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع/حدیث: 2469]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یہ اس ذات گرامی کی سادہ زندگی کا حال تھا جو سید المرسلین تھے، آج کی پرتکلف زندگی آپ ﷺ کی اس سادہ زندگی سے کس قدر مختلف ہے، کاش ہم مسلمان آپ کی اس سادگی کو اپنے لیے نمونہ بنائیں، اور اسے اختیار کریں۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2469 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4146 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´بستر اور بچھونے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تکیہ، جس پر آپ رات کو سوتے تھے، ایسے چمڑے کا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4146]
فوائد ومسائل:
ضروریات زندگی میں کفالت اور قناعت سے کام لینا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4146 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 4151 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بچھونے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بچھونا چمڑے کا تھا، اور اس کے اندر کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4151]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
مطلب یہ ہے کہ بستر عمدہ کپڑے کا نہیں تھا جس میں اون یا روئی بھری ہوئی ہو بلکہ چمڑے کا بستر بنا ہوا تھا، اس میں کھجور کے درخت کی چھال بھری ہوئی تھی جو سخت اور ناہموار ہوتی ہے۔
لیکن چمڑے کی وجہ سے اس کی سختی زیادہ محسوس نہیں ہوتی۔
اہل عرب چمڑے کو سادہ انداز سے تیار کرتے تھے جو نہ زیادہ قیمتی ہوتا تھا، نہ خوبصورت۔
اس لحاظ سے چمڑے کا بستر انتہائی سادگی کی مثال ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4151 سے ماخوذ ہے۔