حدیث نمبر: 4141
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا لَبِسْتُمْ وَإِذَا تَوَضَّأْتُمْ فَابْدَءُوا بِأَيَامِنِكُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم کپڑے پہنو اور جب وضو کرو تو اپنے داہنے سے شروع کرو “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللباس / حدیث: 4141
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن ماجه (402), الأعمش مدلس وعنعن في ھذا اللفظورواه الترمذي (1766) من حديث شعبة عن الأعمش به بلفظ ’’ كان إذا لبس ثوبًا بدأبميا منه‘‘ وسنده صحيح, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 147
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/الطھارة 42 (402)، (تحفة الأشراف: 12380)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/اللباس 28 (1766)، مسند احمد (2/354) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1766 | سنن ابن ماجه: 402 | بلوغ المرام: 42

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جوتا پہننے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کپڑے پہنو اور جب وضو کرو تو اپنے داہنے سے شروع کرو۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4141]
فوائد ومسائل:
ہر اچھے کام میں دائیں جانب کا خیال رکھنا ایک اسلامی ادب اور شعار ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4141 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 42 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´ہر اچھے کام کی ابتدا دائیں طرف سے`
«. . . قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم:‏‏‏‏إذا توضاتم فابداوا بميامنكم . . .»
. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم وضو کرنے لگو تو اپنے دائیں جانب سے ابتداء کیا کرو . . . [بلوغ المرام/: 42]
فائدہ:
یہ روایت اگرچہ سنداً ضعیف ہے لیکن معناً صحیح ہے جیسا کہ دیگر صحیح روایات سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر اچھے کام کی ابتدا میں دایاں پہلو ہی پسند اور محبوب تھا۔ خود بھی اسی پر عمل پیرا رہے اور امت کو بھی حکم فرمایا کہ دائیں جانب سے ابتداء کرو۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 42 سے ماخوذ ہے۔