سنن ابي داود
كتاب اللباس— کتاب: لباس سے متعلق احکام و مسائل
باب مَنْ رَوَى أَنْ لاَ يُنْتَفَعَ بِإِهَابِ الْمَيْتَةِ باب: مردار کی کھال کا استعمال ممنوع ہے اس کے قائلین کی دلیل۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا الثَّقَفِيُّ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ أَنَّهُ انْطَلَقَ هُوَ وَنَاسٌ مَعَهُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ رَجُلٌ مِنْ جُهَيْنَةَ ، قَالَ الْحَكَمُ : فَدَخَلُوا وَقَعَدْتُ عَلَى الْبَابِ ، فَخَرَجُوا إِلَيَّ ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُكَيْمٍ أَخْبَرَهُمْ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى جُهَيْنَةَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِشَهْرٍ أَنْ لَا يَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ وَلَا عَصَبٍ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : فَإِذَا دُبِغَ لَا يُقَالُ لَه إِهَابٌ ، إِنَّمَا يُسَمَّى شَنًّا وَقِرْبَةً ، قَالَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ يُسَمَّى إِهَابًا مَا لَمْ يُدْبَغْ .
´حکم بن عتیبہ سے روایت ہے کہ` وہ اور ان کے ساتھ کچھ اور لوگ عبداللہ بن عکیم کے پاس جو قبیلہ جہینہ کے ایک شخص تھے گئے ، اندر چلے گئے ، میں دروازے ہی پر بیٹھا رہا ، پھر وہ لوگ باہر آئے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ عبداللہ بن عکیم نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے ایک ماہ پیشتر جہینہ کے لوگوں کو لکھا : ” مردار کی کھال اور پٹھوں سے فائدہ نہ اٹھاؤ “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : نضر بن شمیل کہتے ہیں : «اہاب» ایسی کھال کو کہا جاتا ہے جس کی دباغت نہ ہوئی ہو ، اور جب دباغت دے دی جائے تو اسے «اہاب» نہیں کہتے بلکہ اسے «شنّ» یا «قربۃ» کہا جاتا ہے ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عکیم کہتے ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط آیا کہ تم لوگ مردہ جانوروں کے چمڑے ۱؎ اور پٹھوں سے فائدے نہ حاصل کرو۔ [سنن ترمذي/كتاب اللباس/حدیث: 1729]
وضاحت:
1؎:
دباغت سے پہلے کی حالت پرمحمول ہے، گویا حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ دباغت سے قبل مردہ جانوروں کے چمڑے سے فائدہ اٹھانا صحیح نہیں ہے۔
نوٹ:
(نیز ملاحظہ ہو: الإرواء 38، والصحیحة: 3133، والضعیفة: 118، تراجع الألبانی: 15 و 470)
عبداللہ بن عکیم کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب جہینہ کی سر زمین میں ہمیں پڑھ کر سنایا گیا اس وقت میں نوجوان تھا، اس میں تھا: ” مرے ہوئے جانور سے نفع نہ اٹھاؤ، نہ اس کی کھال سے، اور نہ پٹھوں سے۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4127]
ظاہر ہے کہ رنگے بغیر مردار کا چمرہ استعمال کرنا جائز نہیں۔
علاوہ ازیں اجزا کا حکم مردارہی کا ہے۔
عبداللہ بن عکیم کہتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب آیا کہ مردار کی کھال اور پٹھوں سے فائدہ نہ اٹھاؤ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3613]
فوائد ومسائل: مذکورہ بالا احادیث کی روشنی میں اس سے مراد چمڑا ہے جس کو دباغت کے ذریعے سے پاک نہ کر لیا گیا ہو۔
عبداللہ بن عکیم جہنی کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب گرامی پڑھ کر سنایا گیا (اس وقت میں ایک نوخیز لڑکا تھا) کہ تم لوگ مردے کی بغیر دباغت کی ہوئی کھال یا پٹھے سے فائدہ مت اٹھاؤ “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4254]
(2) یہ روایت سابقہ روایات کے خلاف ہے مگر وہ اس سے صحیح تر ہیں، نیز تطبیق بھی ممکن ہے کہ دباغت کے بغیر چمڑے سے فائدہ نہ اٹھاؤ۔ دباغت کے بعد فائدہ اٹھا سکتے ہو۔ یہ اشارہ احادیث میں موجود ہے، لہٰذا جن حضرات نے اس حدیث متاخر ہے کیونکہ یہ آپ کی وفات سے صرف ایک ماہ قبل کی ہے۔“ مگر نسخ تو آخری حربہ ہے۔ اگر تطبیق ممکن ہے تو نسخ کی کیا ضرورت ہے؟ جمہور تطبیق ہی کے قائل ہیں۔
عبداللہ بن عُکیم جہنی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں لکھ بھیجا: ” تم لوگ مردار کی غیر مدبوغ کھال اور پٹھے سے فائدہ نہ اٹھاؤ۔“ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4255]
عبداللہ بن عُکیم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ جہینہ کے لوگوں کو لکھا: ” مردار کی غیر مدبوغ کھال اور پٹھے سے فائدہ نہ اٹھاؤ۔“ ابوعبدالرحمٰن (امام نسائی) کہتے ہیں: اس باب میں ” مردار کی کھال جبکہ اسے دباغت دی گئی ہو “ سب سے صحیح حدیث زہری کی حدیث ہے جسے عبیداللہ بن عبداللہ، ابن عباس سے اور وہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں (نمبر ۴۲۳۹)، واللہ اعلم۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4256]