حدیث نمبر: 4122
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : قَالَ مَعْمَرٌ وَكَانَ الزُّهْرِيُّ " يُنْكِرُ الدِّبَاغَ وَيَقُولُ : يُسْتَمْتَعُ بِهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : لَمْ يَذْكُرْ الْأَوْزَاعِيُّ ، وَيُونُسُ ، وَعُقَيْلٌ فِي حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ الدِّبَاغَ ، وَذَكَرَهُ الزُّبَيْدِيُّ ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَحَفْصُ بْنُ الْوَلِيدِ ذَكَرُوا الدِّبَاغَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´معمر کہتے ہیں` زہری دباغت کا انکار کرتے تھے اور کہتے تھے : اس سے ہر حال میں فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اوزاعی ، یونس اور عقیل نے زہری کی روایت میں ” دباغت “ کا ذکر نہیں کیا ہے اور زبیدی ، سعید بن عبدالعزیز اور حفص بن ولید نے اس کا ذکر کیا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللباس / حدیث: 4122
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, مسند أحمد (1/ 365), عبدالرزاق لم يصرح بالسماع, والحديث المرفوع صحيح, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 146
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ) (صحیح الإسناد) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مردہ جانور کی کھال کا بیان۔`
معمر کہتے ہیں زہری دباغت کا انکار کرتے تھے اور کہتے تھے: اس سے ہر حال میں فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اوزاعی، یونس اور عقیل نے زہری کی روایت میں " دباغت " کا ذکر نہیں کیا ہے اور زبیدی، سعید بن عبدالعزیز اور حفص بن ولید نے اس کا ذکر کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4122]
فوائد ومسائل:
جناب زہری کے قول کا مفاد یہ ہے کہ حلال مردہ جانورکے بے رنگ چمڑے کو بیچنا جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4122 سے ماخوذ ہے۔