حدیث نمبر: 4121
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْحَدِيثِ لَمْ يَذْكُرْ مَيْمُونَةَ قَالَ : فَقَالَ : أَلَا انْتَفَعْتُمْ بِإِهَابِهَا ، ثُمَّ ذَكَرَ مَعْنَاهُ لَمْ يَذْكُرِ الدِّبَاغَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی زہری سے یہی حدیث مروی ہے` اس میں انہوں نے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں کیا ہے ، زہری کہتے ہیں : اس پر آپ نے فرمایا : ” تم نے اس کی کھال سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا ؟ “ پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی ، اور ” دباغت “ کا ذکر نہیں کیا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللباس / حدیث: 4121
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1492) صحيح مسلم (363)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 5839) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مردہ جانور کی کھال کا بیان۔`
اس سند سے بھی زہری سے یہی حدیث مروی ہے اس میں انہوں نے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں کیا ہے، زہری کہتے ہیں: اس پر آپ نے فرمایا: " تم نے اس کی کھال سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا؟ " پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی، اور " دباغت " کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4121]
فوائد ومسائل:
حلال جانور اگر مر جائے تو اس کا کھانا حرام ہے، مگر چمڑے کو رنگ کر استعمال کر لینا بغیر کسی شک وشبہ کے جائز ہے، جیسے اگلی روایات میں آرہا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4121 سے ماخوذ ہے۔