حدیث نمبر: 4116
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ جُبَيْرٍ : أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ دِحْيَةَ بْنِ خَلِيفَةَ الْكَلْبِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبَاطِيَّ فَأَعْطَانِي مِنْهَا قُبْطِيَّةً ، فَقَالَ : " اصْدَعْهَا صَدْعَيْنِ ، فَاقْطَعْ أَحَدَهُمَا قَمِيصًا وَأَعْطِ الْآخَرَ امْرَأَتَكَ تَخْتَمِرُ بِهِ ، فَلَمَّا أَدْبَرَ ، قَالَ : وَأْمُرِ امْرَأَتَكَ أَنْ تَجْعَلَ تَحْتَهُ ثَوْبًا لَا يَصِفُهَا " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، فَقَالَ : عَبَّاسُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´دحیہ بن خلیفہ کلبی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ سفید اور باریک مصری کپڑے لائے گئے تو ان میں سے آپ نے مجھے بھی ایک باریک کپڑا دیا ، اور فرمایا : ” اس کو پھاڑ کر دو ٹکڑے کر لو ان میں ایک کا کرتہ بنا لو اور دوسرا ٹکڑا اپنی بیوی کو دے دو وہ اس کی اوڑھنی بنا لے “ پھر جب وہ پیٹھ پھیر کر جانے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنی بیوی سے کہو اس کے نیچے ایک اور کپڑا کر لے تاکہ اس کا بدن ظاہر نہ ہو “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللباس / حدیث: 4116
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (4366), وللحديث شواھد عند الحاكم (4/187 وسنده حسن)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3538) (ضعیف) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´عورتوں کے باریک کپڑا پہننے کا بیان۔`
دحیہ بن خلیفہ کلبی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ سفید اور باریک مصری کپڑے لائے گئے تو ان میں سے آپ نے مجھے بھی ایک باریک کپڑا دیا، اور فرمایا: اس کو پھاڑ کر دو ٹکڑے کر لو ان میں ایک کا کرتہ بنا لو اور دوسرا ٹکڑا اپنی بیوی کو دے دو وہ اس کی اوڑھنی بنا لے پھر جب وہ پیٹھ پھیر کر جانے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی بیوی سے کہو اس کے نیچے ایک اور کپڑا کر لے تاکہ اس کا بدن ظاہر نہ ہو۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4116]
فوائد ومسائل:
ایسا باریک لباس کہ سرکے بال یا جسم کو نمایاں کرے پہننا جائز نہیں الا یہ کہ ستر کا خاص انتظام کیا گیا ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4116 سے ماخوذ ہے۔