سنن ابي داود
كتاب اللباس— کتاب: لباس سے متعلق احکام و مسائل
باب فِي الاِخْتِمَارِ باب: عورت سر پر اوڑھنی (دوپٹہ) کیسے اوڑھے؟
حدیث نمبر: 4115
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ . ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ وَهْبٍ مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ : " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَهِيَ تَخْتَمِرُ ، فَقَالَ : لَيَّةً لَا لَيَّتَيْنِ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : مَعْنَى قَوْلِهِ لَيَّةً لَا لَيَّتَيْنِ يَقُولُ : لَا تَعْتَمُّ مِثْلَ الرَّجُلِ لَا تُكَرِّرُهُ طَاقًا أَوْ طَاقَيْنِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور وہ اوڑھنی اوڑھے ہوئے تھیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بس ایک ہی پیچ رکھو دو پیچ نہ کرو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : «لية لا ليتين» کا مطلب یہ ہے کہ مرد کی طرح پگڑی نہ باندھو کہ اس کے ایک یا دو پیچ کو دہرا کرو ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´عورت سر پر اوڑھنی (دوپٹہ) کیسے اوڑھے؟`
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور وہ اوڑھنی اوڑھے ہوئے تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بس ایک ہی پیچ رکھو دو پیچ نہ کرو۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: «لية لا ليتين» کا مطلب یہ ہے کہ مرد کی طرح پگڑی نہ باندھو کہ اس کے ایک یا دو پیچ کو دہرا کرو۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4115]
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور وہ اوڑھنی اوڑھے ہوئے تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بس ایک ہی پیچ رکھو دو پیچ نہ کرو۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: «لية لا ليتين» کا مطلب یہ ہے کہ مرد کی طرح پگڑی نہ باندھو کہ اس کے ایک یا دو پیچ کو دہرا کرو۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4115]
فوائد ومسائل:
عورتوں کو مردوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی مشابہت جائز نہیں۔
عورتوں کو مردوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی مشابہت جائز نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4115 سے ماخوذ ہے۔