سنن ابي داود
كتاب اللباس— کتاب: لباس سے متعلق احکام و مسائل
باب فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ { وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ } باب: آیت کریمہ: «وقل للمؤمنات يغضضن من أبصارهن» کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 4111
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ سورة النور آية 31 الْآيَةَ ، فَنُسِخَ وَاسْتَثْنَى مِنْ ذَلِكَ وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاءِ اللَّاتِي لا يَرْجُونَ نِكَاحًا سورة النور آية 60الْآيَةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` آیت کریمہ «وقل للمؤمنات يغضضن من أبصارهن» ” مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں “ ( سورۃ النور : ۳۱ ) کے حکم سے «والقواعد من النساء اللاتي لا يرجون نكاحا» ” بڑی بوڑھی عورتیں جنہیں نکاح کی امید نہ رہی ہو “ ( سورۃ النور : ۶۰ ) کو منسوخ و مستثنیٰ کر دیا گیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´آیت کریمہ: «وقل للمؤمنات يغضضن من أبصارهن» کی تفسیر۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آیت کریمہ «وقل للمؤمنات يغضضن من أبصارهن» ” مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں “ (سورۃ النور: ۳۱) کے حکم سے «والقواعد من النساء اللاتي لا يرجون نكاحا» ” بڑی بوڑھی عورتیں جنہیں نکاح کی امید نہ رہی ہو “ (سورۃ النور: ۶۰) کو منسوخ و مستثنیٰ کر دیا گیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4111]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آیت کریمہ «وقل للمؤمنات يغضضن من أبصارهن» ” مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں “ (سورۃ النور: ۳۱) کے حکم سے «والقواعد من النساء اللاتي لا يرجون نكاحا» ” بڑی بوڑھی عورتیں جنہیں نکاح کی امید نہ رہی ہو “ (سورۃ النور: ۶۰) کو منسوخ و مستثنیٰ کر دیا گیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4111]
فوائد ومسائل:
اس آیت کریمہ کے اگلے الفاظ بڑے اہم ہیں، ارشاد باری ہے تعالی ہے: اگر وہ اپنے کپڑے اتار رکھیں توان پر کوئی گناہ نہیں بشرطیکہ اپنا بناو سنگھار ظاہر کرنے والی نہ ہوں، تاہم اس میں احتیاط کریں تو بہت افضل ہے، جب بڑی عمر کی عورتوں کو اظہار زینت حرام اور ناجائز ہے تو جوان دوشیزاوں کے لئے اور بھی حرام ہے۔
اس آیت کریمہ کے اگلے الفاظ بڑے اہم ہیں، ارشاد باری ہے تعالی ہے: اگر وہ اپنے کپڑے اتار رکھیں توان پر کوئی گناہ نہیں بشرطیکہ اپنا بناو سنگھار ظاہر کرنے والی نہ ہوں، تاہم اس میں احتیاط کریں تو بہت افضل ہے، جب بڑی عمر کی عورتوں کو اظہار زینت حرام اور ناجائز ہے تو جوان دوشیزاوں کے لئے اور بھی حرام ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4111 سے ماخوذ ہے۔