حدیث نمبر: 4100
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا " أَنَّهَا ذَكَرَتْ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ ، فَأَثْنَتْ عَلَيْهِنَّ ، وَقَالَتْ : لَهُنَّ مَعْرُوفًا ، وَقَالَتْ : لَمَّا نَزَلَتْ سُورَةُ النُّورِ عَمِدْنَ إِلَى حُجُورٍ أَوْ حُجُوزٍ شَكَّ أَبُو كَامِلٍ ، فَشَقَقْنَهُنَّ فَاتَّخَذْنَهُ خُمُرًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ` انہوں نے انصار کی عورتوں کا ذکر کیا تو ان کی تعریف کی اور ان کا ذکر اچھے انداز میں کیا اور کہا کہ جب سورۃ النور نازل ہوئی تو وہ پردوں یا تہ بندوں کی طرف بڑھیں اور انہیں پھاڑ کر اوڑھنی اور دوپٹہ بنا لیا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللباس / حدیث: 4100
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, إبراهيم بن المھاجر حسن الحديث علي الراجح
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17848)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تفسیر القرآن (النور) 12 (4758، 4759)، مسند احمد (6/188) (صحیح الإسناد) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´آیت کریمہ: «يدنين عليهن من جلابيبهن» کی تفسیر۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے انصار کی عورتوں کا ذکر کیا تو ان کی تعریف کی اور ان کا ذکر اچھے انداز میں کیا اور کہا کہ جب سورۃ النور نازل ہوئی تو وہ پردوں یا تہ بندوں کی طرف بڑھیں اور انہیں پھاڑ کر اوڑھنی اور دوپٹہ بنا لیا۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4100]
فوائد ومسائل:
مومنات کے متعلق صحیح ثابت ہے کہ انہوں نے سورہ نور میں وارد احکام پردہ پر بخوبی عمل کیا جو کہ آیت نمبر 31 میں مذکور ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4100 سے ماخوذ ہے۔