حدیث نمبر: 41
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خُزَيْمَةَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الِاسْتِطَابَةِ ، فَقَالَ : " بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ لَيْسَ فِيهَا رَجِيعٌ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : كَذَا رَوَاهُ أَبُو أُسَامَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ عُرْوَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے استنجاء کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” استنجاء تین پتھروں سے کرو جن میں گوبر نہ ہو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابواسامہ اور ابن نمیر نے بھی ہشام بن عروہ سے اسی طرح روایت کیا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 41
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف،ابن ماجه (315), عمرو بن خزيمة مجهول الحال،لم يوثقه غير ابن حبان, وحديث مسلم (262) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 15
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/الطھارة 16 (315)، (تحفة الأشراف: 3529)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/213، 214) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن دارمي: 694 | سنن ابن ماجه: 315 | مسند الحميدي: 436 | مسند الحميدي: 437

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´پتھر سے استنجاء کرنے کا بیان`
«. . . فَقَالَ:" بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ لَيْسَ فِيهَا رَجِيعٌ . . .»
. . . آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: استنجاء تین پتھروں سے کرو جن میں گوبر نہ ہو . . . [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 41]
فوائد و مسائل:
یہ روایت سنداً ضعیف ہے۔ تاہم صحیح حدیث میں گوبر اور ہڈی سے استنجا کی ممانعت ثابت ہے۔ [صحيح مسلم، حديث: 262]
غالباً اسی لیے شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 41 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 315 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´پتھر سے استنجاء کے جواز اور گوبر اور ہڈی سے ممانعت کا بیان۔`
خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: استنجاء کے لیے تین پتھر ہوں جن میں گوبر نہ ہو۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 315]
اردو حاشہ:
(رَجِيع)
كا لفظ گوبر لید اور انسانی فضلہ سب کے لیے بولا جاتا ہے یہاں اس کا ترجمہ گوبر اور لید اس لیے کیا گیا ہے کہ دوسری احادیث میں (روث)
کا لفظ ہے جو گدھے گھوڑے وغیرہ کی لید کے لیے بولا جاتا ہے۔
جب لید اور گوبر سے استنجا منع ہے تو انسانی فضلہ کا استعمال بدرجہ اولی منع ہوگا اس سے ماقبل کی روایت سے بھی جو صحیح ہے گوبر اور لید کے عدم استعمال کا اثبات ہوتا ہے اس لیے معناً یہ روایت بھی صحیح ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 315 سے ماخوذ ہے۔