حدیث نمبر: 4096
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ أَنَّهُ ، رَأَى ابْنَ عَبَّاسٍ يَأْتَزِرُ ، فَيَضَعُ حَاشِيَةَ إِزَارِهِ مِنْ مُقَدَّمِهِ عَلَى ظَهْرِ قَدَمَيْهِ وَيَرْفَعُ مِنْ مُؤَخَّرِهِ ، قُلْتُ : لِمَ تَأْتَزِرُ هَذِهِ الْإِزْرَةَ ؟ قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتَزِرُهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عکرمہ کا بیان ہے کہ` انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ تہ بند باندھتے ہیں تو اپنے تہ بند کے آگے کے کنارے کو اپنے دونوں قدموں کی پشت پر رکھتے ہیں اور اس کے پیچھے کے حصہ کو اونچا رکھتے ہیں ، میں نے ان سے پوچھا : آپ تہ بند ایسا کیوں باندھتے ہیں ؟ تو وہ بولے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی باندھتے دیکھا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللباس / حدیث: 4096
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (4370)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6215)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری (9681) (صحیح الإسناد) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´تہ بند (لنگی) کہاں تک پہنے؟`
عکرمہ کا بیان ہے کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ تہ بند باندھتے ہیں تو اپنے تہ بند کے آگے کے کنارے کو اپنے دونوں قدموں کی پشت پر رکھتے ہیں اور اس کے پیچھے کے حصہ کو اونچا رکھتے ہیں، میں نے ان سے پوچھا: آپ تہ بند ایسا کیوں باندھتے ہیں؟ تو وہ بولے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی باندھتے دیکھا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4096]
فوائد ومسائل:
صحابہ کرام رضی اللہ کی عام عادات میں بھی آپ ؐ کی پیروی کرتے تھے اور اب اہل زمان کی حالت کیا ہے کہ صریح شرعی احکام وفرامین کی مخالفت کرکے بھی بڑے اعلی درجے کے مومن بنتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4096 سے ماخوذ ہے۔