سنن ابي داود
كتاب اللباس— کتاب: لباس سے متعلق احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي إِسْبَالِ الإِزَارِ باب: تہ بند (لنگی) کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانا منع ہے۔
حدیث نمبر: 4088
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا وَالْأَوَّلُ أَتَمُّ ، قَالَ : الْمَنَّانُ الَّذِي لَا يُعْطِي شَيْئًا إِلَّا مَنَّهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی ابوذر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ہے` اور پہلی روایت زیادہ کامل ہے راوی کہتے ہیں : ” «منان» وہ ہے جو بغیر احسان جتائے کچھ نہ دے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´تہ بند (لنگی) کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانا منع ہے۔`
اس سند سے بھی ابوذر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ہے اور پہلی روایت زیادہ کامل ہے راوی کہتے ہیں: ” «منان» وہ ہے جو بغیر احسان جتائے کچھ نہ دے۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4088]
اس سند سے بھی ابوذر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ہے اور پہلی روایت زیادہ کامل ہے راوی کہتے ہیں: ” «منان» وہ ہے جو بغیر احسان جتائے کچھ نہ دے۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4088]
فوائد ومسائل:
(منان) کے دو معانی ہو سکتے ہیں اگر یہ (المنة) سے ماخوذہو تو اس کا مفہوم ہے، احسان جتلانے والا اور معروف ہے، احسان جتلانا نیکی کو ضائع کردیتا ہے اور صدقات میں اس سے اجر ضائع ہو جاتا ہے اور اس کا مادہ (المن) ہو تو اس کا مفہوم کمی کرنا ہے، جیسے کہ آیت کریمہ میں ہے، آپ کے لئے بہت بڑا اجر ہے، جس میں کوئی کمی نہیں اور (منان) ایسا آدمی جو حق کی ادائیگی میں کمی کرے اور ناپ تول میں خیانت کرے۔
(منان) کے دو معانی ہو سکتے ہیں اگر یہ (المنة) سے ماخوذہو تو اس کا مفہوم ہے، احسان جتلانے والا اور معروف ہے، احسان جتلانا نیکی کو ضائع کردیتا ہے اور صدقات میں اس سے اجر ضائع ہو جاتا ہے اور اس کا مادہ (المن) ہو تو اس کا مفہوم کمی کرنا ہے، جیسے کہ آیت کریمہ میں ہے، آپ کے لئے بہت بڑا اجر ہے، جس میں کوئی کمی نہیں اور (منان) ایسا آدمی جو حق کی ادائیگی میں کمی کرے اور ناپ تول میں خیانت کرے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4088 سے ماخوذ ہے۔