سنن ابي داود
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب فِي وَقْتِ صَلاَةِ الْعَصْرِ باب: عصر کے وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 408
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْيَمَامِيُّ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ ، قَالَ : " قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ ، فَكَانَ يُؤَخِّرُ الْعَصْرَ مَا دَامَتِ الشَّمْسُ بَيْضَاءَ نَقِيَّةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی بن شیبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ آئے تو دیکھا کہ آپ عصر کو مؤخر کرتے جب تک کہ سورج سفید اور صاف رہتا تھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´عصر کے وقت کا بیان۔`
علی بن شیبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ آئے تو دیکھا کہ آپ عصر کو مؤخر کرتے جب تک کہ سورج سفید اور صاف رہتا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 408]
علی بن شیبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ آئے تو دیکھا کہ آپ عصر کو مؤخر کرتے جب تک کہ سورج سفید اور صاف رہتا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 408]
408. اردو حاشیہ:
صحیح روایات سے تاخیر کا نہیں، اول وقت میں پڑھنے کا اثبات ہوتا ہے۔
صحیح روایات سے تاخیر کا نہیں، اول وقت میں پڑھنے کا اثبات ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 408 سے ماخوذ ہے۔
✍️ حافظ زبیر علی زئی
عصر کی نماز ایک مثل پر پڑھنی چاہئے۔
دیکھئے سنن الترمذی (ج1 ص38۔ 39 ح149، وقال: ’’حدیث حسن“ و سندہ حسن)
ایک روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز تاخیر سے پڑھتے تھے، جب تک سورج سفید اور شفاف رہتا۔ [سنن ابي داود: 408]
اس روایت کی سند دو مجہول راویوں: محمد بن یزید الیمامی اور یزید بن عبدالرحمن دونوں کی وجہ سے سخت ضعیف ہے۔ دیکھئے: [هدية المسلمين ص25ح7]
اگر کوئی کہے کہ امام ابوداود نے اس حدیث پر سکوت کیا ہے تو عرض ہے کہ آلِ دیو بند کے نزدیک کسی حدیث پر امام ابوداود کا سکوت حجت نہیں ہے۔ مثلاًً: ایک حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھائی پھر آپ نے صحابۂ کرام سے کہا کیا تم امام کے پیچھے قرأت کرتے ہو؟ صحابہ نے کہا جی ہاں! آپ نے فرمایا: ایسا نہ کرو سوائے سورۂ فاتحہ کے کیونکہ جو اسے نہیں پڑھتا تو اس کی نماز نہیں ہوتی۔ [سنن ابي داود: 823 ملخصا]
اس حدیث پر امام ابوداود نے سکوت کیا ہے لیکن محمد سرفراز خان صفدر دیو بندی نے اس کے راوی محمد بن اسحاق بن یسار کو ’’کذاب و دجال“ لکھا ہے۔
دیکھئے: [احسن الكلام ج2 ص84، دوسرانسخه ج2 ص94]
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہانے بعض لوگوں سے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز تم سے جلدی پڑھتے تھے، جبکہ تم عصر کی نماز آپ سے جلدی پڑھتے ہو۔ [سنن الترمذي: 161]
اس حدیث سے عصر کی نماز تاخیر سے پڑھنے پر استدلال دو وجہ سے باطل ہے؟
اول: اس میں عصر کی نماز تاخیر سے پڑھنے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
دوم: بعض لوگوں کے بارے میں یہ صراحت کہیں بھی نہیں ہے کہ وہ ظہر کی نماز کس وقت پڑھتے تھے اور عصر کی نماز کس وقت پڑھتے تھے؟
صحیح اور صریح احادیث کو چھوڑ کر متشابہات اور غیر واضح روایات کے پیچھے وہی لوگ بھاگتے ہیں جو دلائل صحیحہ سے سراسر عاری ہوتے ہیں۔
۔۔۔ اصل مضمون دیکھیں۔۔۔
فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام) ج2 ص77
دیکھئے سنن الترمذی (ج1 ص38۔ 39 ح149، وقال: ’’حدیث حسن“ و سندہ حسن)
ایک روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز تاخیر سے پڑھتے تھے، جب تک سورج سفید اور شفاف رہتا۔ [سنن ابي داود: 408]
اس روایت کی سند دو مجہول راویوں: محمد بن یزید الیمامی اور یزید بن عبدالرحمن دونوں کی وجہ سے سخت ضعیف ہے۔ دیکھئے: [هدية المسلمين ص25ح7]
اگر کوئی کہے کہ امام ابوداود نے اس حدیث پر سکوت کیا ہے تو عرض ہے کہ آلِ دیو بند کے نزدیک کسی حدیث پر امام ابوداود کا سکوت حجت نہیں ہے۔ مثلاًً: ایک حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھائی پھر آپ نے صحابۂ کرام سے کہا کیا تم امام کے پیچھے قرأت کرتے ہو؟ صحابہ نے کہا جی ہاں! آپ نے فرمایا: ایسا نہ کرو سوائے سورۂ فاتحہ کے کیونکہ جو اسے نہیں پڑھتا تو اس کی نماز نہیں ہوتی۔ [سنن ابي داود: 823 ملخصا]
اس حدیث پر امام ابوداود نے سکوت کیا ہے لیکن محمد سرفراز خان صفدر دیو بندی نے اس کے راوی محمد بن اسحاق بن یسار کو ’’کذاب و دجال“ لکھا ہے۔
دیکھئے: [احسن الكلام ج2 ص84، دوسرانسخه ج2 ص94]
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہانے بعض لوگوں سے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز تم سے جلدی پڑھتے تھے، جبکہ تم عصر کی نماز آپ سے جلدی پڑھتے ہو۔ [سنن الترمذي: 161]
اس حدیث سے عصر کی نماز تاخیر سے پڑھنے پر استدلال دو وجہ سے باطل ہے؟
اول: اس میں عصر کی نماز تاخیر سے پڑھنے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
دوم: بعض لوگوں کے بارے میں یہ صراحت کہیں بھی نہیں ہے کہ وہ ظہر کی نماز کس وقت پڑھتے تھے اور عصر کی نماز کس وقت پڑھتے تھے؟
صحیح اور صریح احادیث کو چھوڑ کر متشابہات اور غیر واضح روایات کے پیچھے وہی لوگ بھاگتے ہیں جو دلائل صحیحہ سے سراسر عاری ہوتے ہیں۔
۔۔۔ اصل مضمون دیکھیں۔۔۔
فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام) ج2 ص77
درج بالا اقتباس فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)، حدیث/صفحہ نمبر: 77 سے ماخوذ ہے۔