سنن ابي داود
كتاب اللباس— کتاب: لباس سے متعلق احکام و مسائل
باب فِي الْعَمَائِمِ باب: عمامہ (پگڑی) کا بیان۔
حدیث نمبر: 4078
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَسْقَلَانِيُّ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ رُكَانَةَ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنَّ رُكَانَةَ صَارَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَرَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ رُكَانَةُ : وَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : "فَرْقُ مَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ الْعَمَائِمُ عَلَى الْقَلَانِسِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´محمد بن علی بن رکانہ روایت کرتے ہیں کہ` رکانہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کشتی لڑی تو آپ نے رکانہ کو پچھاڑ دیا ۔ رکانہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” ہمارے اور مشرکین کے درمیان فرق ٹوپیوں پر پگڑی باندھنے کا ہے “ ۔