حدیث نمبر: 4069
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُزَابَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق يَعْنِي ابْنَ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : " مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَحْمَرَانِ ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک شخص گزرا جس کے جسم پر دو سرخ کپڑے تھے ، اس نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے اسے جواب نہیں دیا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللباس / حدیث: 4069
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (2807), قال أحمد في أبي يحيي القتات :’’ روي عنه إسرائيل أحاديث كثيرة مناكير جدًا ‘‘ (الجرح والتعديل 433/3 وسنده صحيح) وقال الحافظ : لين الحديث (تق : 4069) وقال الھيثمي : وضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 10 / 74،و انظر 200/7), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 145
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الأدب 45 (2807)، (تحفة الأشراف: 8918) (ضعیف) » (سند میں ابویحیی القتات لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہیں)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´لال رنگ کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک شخص گزرا جس کے جسم پر دو سرخ کپڑے تھے، اس نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے اسے جواب نہیں دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4069]
فوائد ومسائل:
یہ روایت سند اضعیف ہے، تاہم یہ واضح ہے کہ اگر کوئی شخص کسی شرعی مخالفت کا مرتکب ہو رہا ہو تو زبانی نصیحت کے علاوہ ایک انداز یہ بھی ہے کہ اس کے سلام کا جواب نہ دیا جائے تاکہ اسے خوب نصیحت ہو اور وہ اپنے غلط عمل سے باز آجائے، جیساکہ غزوہ تبوک سے عمدہ پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ کیا گیا تھا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4069 سے ماخوذ ہے۔