سنن ابي داود
كتاب اللباس— کتاب: لباس سے متعلق احکام و مسائل
باب فِي الْمَصْبُوغِ بِالصُّفْرَةِ باب: پیلے یا گیروے رنگ سے رنگے ہوئے کپڑوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 4064
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ أَسْلَمَ : أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَصْبُغُ لِحْيَتَهُ بِالصُّفْرَةِ حَتَّى تَمْتَلِئَ ثِيَابُهُ مِنَ الصُّفْرَةِ ، فَقِيلَ لَهُ : لِمَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ ؟ فَقَالَ : " إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْبُغُ بِهَا وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْهَا ، وَقَدْ كَانَ يَصْبُغُ ثِيَابَهُ كُلَّهَا حَتَّى عِمَامَتَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زید بن اسلم سے روایت ہے کہ` ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی داڑھی زرد ( زعفرانی ) رنگ سے رنگتے تھے یہاں تک کہ ان کے کپڑے زردی سے بھر جاتے تھے ، ان سے پوچھا گیا : آپ زرد رنگ سے کیوں رنگتے ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے رنگتے دیکھا ہے آپ کو اس سے زیادہ کوئی اور چیز پسند نہ تھی آپ اپنے تمام کپڑے یہاں تک کہ عمامہ کو بھی اسی سے رنگتے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´پیلے یا گیروے رنگ سے رنگے ہوئے کپڑوں کا بیان۔`
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی داڑھی زرد (زعفرانی) رنگ سے رنگتے تھے یہاں تک کہ ان کے کپڑے زردی سے بھر جاتے تھے، ان سے پوچھا گیا: آپ زرد رنگ سے کیوں رنگتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے رنگتے دیکھا ہے آپ کو اس سے زیادہ کوئی اور چیز پسند نہ تھی آپ اپنے تمام کپڑے یہاں تک کہ عمامہ کو بھی اسی سے رنگتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4064]
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی داڑھی زرد (زعفرانی) رنگ سے رنگتے تھے یہاں تک کہ ان کے کپڑے زردی سے بھر جاتے تھے، ان سے پوچھا گیا: آپ زرد رنگ سے کیوں رنگتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے رنگتے دیکھا ہے آپ کو اس سے زیادہ کوئی اور چیز پسند نہ تھی آپ اپنے تمام کپڑے یہاں تک کہ عمامہ کو بھی اسی سے رنگتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4064]
فوائد ومسائل:
1: یہاں زردرنگ سے مراد درس ہے، یہ زرد رنگ کی گھاس ہوتی ہے جو قدرے زعفران سے مشابہ ہوتی ہے۔
2: صحابہ کرام ؐاپنی عادات میں بھی رسول ؐ کی اقتداپسند کرتے تھے اور محبان رسول کو ایسے ہی ہی ہونا چاہیے، مگر صورت حال اب بہت بگڑتی جارہی ہے کہ لوگ فرائض اور واجبات شرعیہ کی کوئی پروا نہیں کرتے۔
1: یہاں زردرنگ سے مراد درس ہے، یہ زرد رنگ کی گھاس ہوتی ہے جو قدرے زعفران سے مشابہ ہوتی ہے۔
2: صحابہ کرام ؐاپنی عادات میں بھی رسول ؐ کی اقتداپسند کرتے تھے اور محبان رسول کو ایسے ہی ہی ہونا چاہیے، مگر صورت حال اب بہت بگڑتی جارہی ہے کہ لوگ فرائض اور واجبات شرعیہ کی کوئی پروا نہیں کرتے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4064 سے ماخوذ ہے۔