سنن ابي داود
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب فِي وَقْتِ صَلاَةِ الْعَصْرِ باب: عصر کے وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 406
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَيَاتُهَا أَنْ تَجِدَ حَرَّهَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´خیثمہ کہتے ہیں کہ` سورج کے زندہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ تم اس کی تپش اور گرمی محسوس کرو ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´عصر کے وقت کا بیان۔`
خیثمہ کہتے ہیں کہ سورج کے زندہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ تم اس کی تپش اور گرمی محسوس کرو۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 406]
خیثمہ کہتے ہیں کہ سورج کے زندہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ تم اس کی تپش اور گرمی محسوس کرو۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 406]
406۔ اردو حاشیہ:
➊ یہ دلیل ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اول وقت میں عصر پڑھ لیا کرتے تھے جس کی تفصیل گزر چکی ہے کہ ایک مثل سایہ سے عصر کا وقت شرو ع ہو جاتا ہے۔
➋ مدینہ کے جنوب مشرق کی جانب کی آبادیوں کی «عوالي» ”بالائی علاقے“ اور شمال کی جانب کے علاقے کو «سافله» ”نشیبی علاقہ“ کہتے تھے۔
➊ یہ دلیل ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اول وقت میں عصر پڑھ لیا کرتے تھے جس کی تفصیل گزر چکی ہے کہ ایک مثل سایہ سے عصر کا وقت شرو ع ہو جاتا ہے۔
➋ مدینہ کے جنوب مشرق کی جانب کی آبادیوں کی «عوالي» ”بالائی علاقے“ اور شمال کی جانب کے علاقے کو «سافله» ”نشیبی علاقہ“ کہتے تھے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 406 سے ماخوذ ہے۔