سنن ابي داود
كتاب اللباس— کتاب: لباس سے متعلق احکام و مسائل
باب فِي الْحَرِيرِ لِلنِّسَاءِ باب: عورتوں کے لیے ریشمی کپڑا کی حلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4059
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ يَعْنِي الزُّبَيْرِيَّ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " كُنَّا نَنْزِعُهُ عَنِ الْغِلْمَانِ وَنَتْرُكُهُ عَلَى الْجَوَارِي ، قَالَ : مِسْعَرٌ فَسَأَلْتُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ عَنْهُ فَلَمْ يَعْرِفْهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم ریشمی کپڑوں کو لڑکوں سے چھین لیتے تھے اور لڑکیوں کو ( اسے پہنے دیکھتے تو انہیں ) چھوڑ دیتے تھے ۔ مسعر کہتے ہیں : میں نے عمرو بن دینار سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی مسعر نے جب یہ حدیث عبدالملک بن میسرہ زراد کوفی سے عمرو بن دینار کے واسطہ سے روایت کرتے سنی تو انہوں نے براہ راست عمرو بن دینار سے اس کے بارے میں پوچھا تو عمرو نے لاعلمی کا اظہار کیا ممکن ہے انہیں یہ حدیث یاد نہ رہی ہو وہ بھول گئے ہوں، واللہ اعلم۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´عورتوں کے لیے ریشمی کپڑا کی حلت کا بیان۔`
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ریشمی کپڑوں کو لڑکوں سے چھین لیتے تھے اور لڑکیوں کو (اسے پہنے دیکھتے تو انہیں) چھوڑ دیتے تھے۔ مسعر کہتے ہیں: میں نے عمرو بن دینار سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4059]
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ریشمی کپڑوں کو لڑکوں سے چھین لیتے تھے اور لڑکیوں کو (اسے پہنے دیکھتے تو انہیں) چھوڑ دیتے تھے۔ مسعر کہتے ہیں: میں نے عمرو بن دینار سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4059]
فوائد ومسائل:
بچے اپنے بچپنے کی وجہ سے اگرچہ شرعی احکام کے مکلف نہیں ہوتے، مگر والدین اور سرپرست یقینامکلف ہوتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ شرعی حدود کا پابند ہوتے ہوئے حتی الامکان بچوں سے بھی عمل کروائیں اور اللہ کے ہاں اجر کے مستحق بنیں۔
بچے اپنے بچپنے کی وجہ سے اگرچہ شرعی احکام کے مکلف نہیں ہوتے، مگر والدین اور سرپرست یقینامکلف ہوتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ شرعی حدود کا پابند ہوتے ہوئے حتی الامکان بچوں سے بھی عمل کروائیں اور اللہ کے ہاں اجر کے مستحق بنیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4059 سے ماخوذ ہے۔