حدیث نمبر: 4049
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الْهَمْدَانِيُّ ، أَخْبَرَنَا الْمُفَضَّلُ يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيِّ ، عَنْ أَبِي الْحُصَيْنِ يَعْنِي الْهَيْثَمَ بْنَ شَفِيٍّ ، قَالَ : خَرَجْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي يُكْنَى أَبَا عَامِرٍ رَجُلٌ مِنَ الْمَعَافِرِ لِنُصَلِّيَ بِإِيلْيَاءَ وَكَانَ قَاصُّهُمْ رَجُلٌ مِنَ الْأَزْدِ ، يُقَالُ لَهُ : أَبُو رَيْحَانَةَ مِنَ الصَّحَابَةِ ، قَالَ أَبُو الْحُصَيْنِ : فَسَبَقَنِي صَاحِبِي إِلَى الْمَسْجِدِ ثُمَّ رَدِفْتُهُ ، فَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَسَأَلَنِي هَلْ أَدْرَكْتَ قَصَصَ أَبِي رَيْحَانَةَ ؟ قُلْتُ : لَا ، قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَشْرٍ : عَنِ الْوَشْرِ وَالْوَشْمِ وَالنَّتْفِ ، وَعَنْ مُكَامَعَةِ الرَّجُلِ الرَّجُلَ بِغَيْرِ شِعَارٍ ، وَعَنْ مُكَامَعَةِ الْمَرْأَةِ الْمَرْأَةَ بِغَيْرِ شِعَارٍ ، وَأَنْ يَجْعَلَ الرَّجُلُ فِي أَسْفَلِ ثِيَابِهِ حَرِيرًا مِثْلَ الْأَعَاجِمِ أَوْ يَجْعَلَ عَلَى مَنْكِبَيْهِ حَرِيرًا مِثْلَ الْأَعَاجِمِ ، وَعَنِ النُّهْبَى وَرُكُوبِ النُّمُورِ وَلُبُوسِ الْخَاتَمِ إِلَّا لِذِي سُلْطَانٍ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : الَّذِي تَفَرَّدَ بِهِ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ ذِكْرُ الْخَاتَمِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوالحصین ہیثم بن شفی کہتے ہیں کہ` میں اور میرا ایک ساتھی جس کی کنیت ابوعامر تھی اور وہ قبیلہ معافر کے تھے دونوں بیت المقدس میں نماز پڑھنے کے لیے نکلے ، بیت المقدس میں لوگوں کے واعظ و خطیب قبیلہ ازد کے ابوریحانہ نامی ایک صحابی تھے ۔ میرے ساتھی مسجد میں مجھ سے پہلے پہنچے پھر ان کے پیچھے میں آیا اور آ کر ان کے بغل میں بیٹھ گیا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تم نے ابوریحانہ کا کچھ وعظ سنا ؟ میں نے کہا : نہیں ، وہ بولے : میں نے انہیں کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس باتوں سے منع فرمایا ہے : ” دانت باریک کرنے سے ، گودنا گودنے سے ، بال اکھیڑنے سے ، اور دو مردوں کے ایک ساتھ ایک کپڑے میں سونے سے ، اور دو عورتوں کے ایک ساتھ ایک ہی کپڑے میں سونے سے ، اور مرد کے اپنے کپڑوں کے نیچے عجمیوں کی طرح ریشمی کپڑا لگانے سے ، یا عجمیوں کی طرح اپنے مونڈھوں پر ریشم لگانے سے ، اور دوسروں کے مال لوٹنے سے اور درندوں کی کھالوں پر سوار ہونے سے ، اور انگوٹھی پہننے سے سوائے بادشاہ کے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس حدیث میں انگوٹھی کا ذکر منفرد ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللباس / حدیث: 4049
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, نسائي (5094) وغيره،ابن ماجه (3655), أبو عامر المعافري الحجري : لم أجد من وثقه وھو : مجهول الحال كما في التحرير (8200), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 144
تخریج حدیث « سنن النسائی/الزینة 20 (5094)، 27 (5113، 5114، 5115)، سنن ابن ماجہ/ اللباس 47 (3655)، (تحفة الأشراف: 12039)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/134، 135)، سنن الدارمی/الاستئذان 20 (2690) (ضعیف) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´ریشم کی حرمت کا بیان۔`
ابوالحصین ہیثم بن شفی کہتے ہیں کہ میں اور میرا ایک ساتھی جس کی کنیت ابوعامر تھی اور وہ قبیلہ معافر کے تھے دونوں بیت المقدس میں نماز پڑھنے کے لیے نکلے، بیت المقدس میں لوگوں کے واعظ و خطیب قبیلہ ازد کے ابوریحانہ نامی ایک صحابی تھے۔ میرے ساتھی مسجد میں مجھ سے پہلے پہنچے پھر ان کے پیچھے میں آیا اور آ کر ان کے بغل میں بیٹھ گیا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تم نے ابوریحانہ کا کچھ وعظ سنا؟ میں نے کہا: نہیں، وہ بولے: میں نے انہیں کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس باتوں سے منع فرمایا ہے: " دانت باریک کرنے سے، گودنا گودنے سے، بال اکھیڑنے سے، اور دو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4049]
فوائد ومسائل:
یہ روایت ضعیف ہے، تاہم مذکورہ مسائل دیگر صحیح روایات سے ثابت ہیں اور انگوٹھی سے مراد وہ خاص مہر والی انگوٹھی ہے جو اصحاب حکومت اور منصف دارلوگ استعمال کرتے ہیں اور انہی کے لئے مخصوص ہوتی ہے ورنہ عام انگوٹھی پہننا جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4049 سے ماخوذ ہے۔