سنن ابي داود
كتاب اللباس— کتاب: لباس سے متعلق احکام و مسائل
باب مَنْ كَرِهَهُ باب: ریشم کی حرمت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ مَلِكَ الرُّومِ أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتُقَةً مِنْ سُنْدُسٍ ، فَلَبِسَهَا فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يَدَيْهِ تَذَبْذَبَانِ ثُمَّ بَعَثَ بِهَا إِلَى جَعْفَرٍ ، فَلَبِسَهَا ثُمَّ جَاءَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَمْ أُعْطِكَهَا لِتَلْبَسَهَا ، قَالَ : فَمَا أَصْنَعُ بِهَا ؟ قَالَ : أَرْسِلْ بِهَا إِلَى أَخِيكَ النَّجَاشِيِّ " .
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` روم کے بادشاہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سندس ( ایک باریک ریشمی کپڑا ) کا ایک چوغہ ہدیہ میں بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے زیب تن فرمایا ۔ گویا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں کو اس وقت دیکھ رہا ہوں آپ اسے مل رہے ہیں ، پھر آپ نے اسے جعفر رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا تو اسے پہن کر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا : ” میں نے تمہیں اس لیے نہیں دیا ہے کہ اسے تم پہنو “ انہوں نے کہا : پھر میں اسے کیا کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے اپنے بھائی نجاشی کو بھیج دو “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اس حدیث میں سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے جنتی رومال کا ذکر ہے، اس سے معلوم ہوا کہ بعض جنتیوں کو رومال بھی دیے جائیں گے، سبحان اللہ۔
ہدیہ قبول کر لینا چاہیے، خواہ دینے والا مسلمان ہو یا غیر مسلم۔