حدیث نمبر: 4041
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ ، قَالَ : حُلَّةُ إِسْتَبْرَقٍ ، وَقَالَ : فِيهِ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْهِ بِجُبَّةِ دِيبَاجٍ ، وَقَالَ : تَبِيعُهَا وَتُصِيبُ بِهَا حَاجَتَكَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہی واقعہ مروی ہے` لیکن اس میں ” دھاری دار ریشمی جوڑے “ کے بجائے ” موٹے ریشم کا جوڑا ہے “ نیز اس میں ہے : پھر آپ نے انہیں دیباج ایک جوڑا بھیجا ، اور فرمایا : ” اسے بیچ کر اپنی ضرورت پوری کرو “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللباس / حدیث: 4041
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2054) صحيح مسلم (2068)
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : (1077)، (تحفة الأشراف: 6895) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´حریر (ریشم) پہننے کا بیان۔`
اس سند سے بھی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہی واقعہ مروی ہے لیکن اس میں دھاری دار ریشمی جوڑے کے بجائے موٹے ریشم کا جوڑا ہے نیز اس میں ہے: پھر آپ نے انہیں دیباج ایک جوڑا بھیجا، اور فرمایا: اسے بیچ کر اپنی ضرورت پوری کرو۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4041]
فوائد ومسائل:
ریشم موٹا ہو یا باریک سب کا حکم ایک ہے اور نبی ؐ نے اسے فروخت کرنے کا حکم اس لئے دیا تھا کہ فی نفسہ وہ حلال تھا، گو مردوں کے لئے اسے پہننا حرام تھا گویا ایسی چیزیں جو ایک اعتبار سے حلال اور ایک اعتبار سے حرام ہوں ام کی تجارت جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4041 سے ماخوذ ہے۔