حدیث نمبر: 4038
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَنْمَاطِيُّ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّازِيُّ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، أَخْبَرَنِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَجُلًا بِبُخَارَى عَلَى بَغْلَةٍ بَيْضَاءَ عَلَيْهِ عِمَامَةُ خَزٍّ سَوْدَاءُ ، فَقَالَ : كَسَانِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " هَذَا لَفْظُ عُثْمَانَ وَالْإِخْبَارُ فِي حَدِيثِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سعد بن عثمان کہتے ہیں کہ` میں نے ایک شخص کو بخارا میں ایک سفید خچر پر سوار دیکھا وہ سیاہ خز ۱؎ کا عمامہ باندھے ہوئے تھے اس نے کہا : یہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہنایا ہے ۔

وضاحت:
۱؎: خز: ایک قسم کا ریشمی اونی کپڑا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللباس / حدیث: 4038
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (3321), سعد بن عثمان،لم يوثقه غير ابن حبان فھو مجهول كما في التحرير (2250), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 144
تخریج حدیث « سنن الترمذی/تفسیر القرآن سورة الحاقة 67 (3321)، (تحفة الأشراف: 15578) (ضعیف الإسناد) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 3321

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´خز (اون اور ریشم سے بنے لباس) پہننے کا بیان۔`
سعد بن عثمان کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو بخارا میں ایک سفید خچر پر سوار دیکھا وہ سیاہ خز ۱؎ کا عمامہ باندھے ہوئے تھے اس نے کہا: یہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہنایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4038]
فوائد ومسائل:
اون اور ریشم کے مرکب لباس کو خز کہا جاتا ہے۔
(ابن الأثیر) جبکہ علامہ منذری رضی اللہ کا کہنا ہے کہ خرگوش کے بالوں سے بنے لباس کو خز کہتے ہیں اور اصلایہ لفظ نر خرگوش پر بولا جاتا ہے۔
بعض مواقع پر مطلقا ریشم کے معنی بھی مستعمل ہے۔
خالص ریشم کا استعمال مردوں کے لئے حرام ہے۔
مخلوط اور مرکب میں اختلاف ہے، جبکہ کئی صحابہ وتابعین سے مروی ہے کہ وہ حضرات اس قسم کا لباس استعمال کرتے تھے جن روایات میں منع کا بیان ہے، وہ اس معنی میں ہیں کہ غیر مسلم اور مرفہ الحال لوگوں سے مشابہت نہ ہو۔
خرگوش یا اس قسم کی دیگر اشیا سے بنے لباس پہننا جائز ہے، جیسے کہ آج کل کا مصنوعی ریشم ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4038 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3321 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سورۃ الحاقہ سے بعض آیات کی تفسیر۔`
عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن سعد رازی سے روایت ہے کہ ان کے باب عبداللہ نے ان کو خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے ایک شخص کو بخارا میں خچر پر سوار سر پر سیاہ عمامہ باندھے ہوئے دیکھا وہ کہتا تھا: یہ وہ عمامہ ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پہنایا ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3321]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
باب سے اس حدیث کا ظاہری تعلق نہیں ہے، اسے صرف یہ بتانے کے لیے ذکر کیا گیا ہے کہ اس سے پہلے مذکورہ حدیث کی سند میں جس میں عبدالرحمن بن سعد کا ذکرہے اس سے یہی عبدالرحمن بن عبداللہ بن سعد رازی مراد ہیں۔

نوٹ:
(سند میں سعد بن عثمان الرازی الدشتکی مقبول راوی ہیں، لیکن متابعت نہ ہونے کی وجہ سے وہ لین الحدیث ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3321 سے ماخوذ ہے۔