سنن ابي داود
كتاب اللباس— کتاب: لباس سے متعلق احکام و مسائل
باب لِبَاسِ الْغَلِيظِ باب: موٹے کپڑے پہنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ أَبُو ثَوْرٍ الْكَلْبِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ بْنِ الْقَاسِمِ الْيَمَامِيُّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا خَرَجَتْ الْحَرُورِيَّةُ أَتَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : ائْتِ هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ ، فَلَبِسْتُ أَحْسَنَ مَا يَكُونُ مِنْ حُلَلِ الْيَمَنِ ، قَالَ أَبُو زُمَيْلٍ وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَجُلًا جَمِيلًا جَهِيرًا ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَأَتَيْتُهُمْ ، فَقَالُوا : مَرْحَبًا بِكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ ، مَا هَذِهِ الْحُلَّةُ ؟ قَالَ : مَا تَعِيبُونَ عَلَيَّ لَقَدْ " رَأَيْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ مَا يَكُونُ مَنِ الْحُلَلِ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : اسْمُ أَبِي زُمَيْلٍ سِمَاكُ بْنُ الْوَلِيدِ الْحَنَفِيُّ .
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` جب خوارج نکلے تو میں علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو آپ نے کہا : ” تم ان لوگوں کے پاس جاؤ “ تو میں یمن کا سب سے عمدہ جوڑا پہن کر ان کے پاس گیا ۔ ابوزمیل کہتے ہیں : ابن عباس رضی اللہ عنہما ایک خوبصورت اور وجیہ آدمی تھے ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : تو میں ان کے پاس آیا تو انہوں نے کہا : خوش آمدید اے ابن عباس ! اور پوچھا : یہ کیا پہنے ہو ؟ ابن عباس نے کہا : تم مجھ میں کیا عیب نکالتے ہو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھے سے اچھا جوڑا پہنے دیکھا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب خوارج نکلے تو میں علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو آپ نے کہا: ” تم ان لوگوں کے پاس جاؤ “ تو میں یمن کا سب سے عمدہ جوڑا پہن کر ان کے پاس گیا۔ ابوزمیل کہتے ہیں: ابن عباس رضی اللہ عنہما ایک خوبصورت اور وجیہ آدمی تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: تو میں ان کے پاس آیا تو انہوں نے کہا: خوش آمدید اے ابن عباس! اور پوچھا: یہ کیا پہنے ہو؟ ابن عباس نے کہا: تم مجھ میں کیا عیب نکالتے ہو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھے سے اچھا جوڑا پہنے دیکھا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4037]
مصلحت کے پیش نظر عمدہ اور قیمتی لباس پہننا مستحب ہے بشرطیہ کہ انسان کے خودرائی اور تکبر میں مبتلا ہوجانے کا اندیشہ ہو۔