حدیث نمبر: 4035
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ : " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى حُلَّةً بِبِضْعَةٍ وَعِشْرِينَ قَلُوصًا ، فَأَهْدَاهَا إِلَى ذِي يَزَنَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسحاق بن عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جوڑا بیس سے کچھ زائد اونٹنیاں دے کر خریدا پھر آپ نے اسے بادشاہ ذی یزن کو ہدیے میں بھیجا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´قیمتی لباس پہننے کا بیان۔`
اسحاق بن عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جوڑا بیس سے کچھ زائد اونٹنیاں دے کر خریدا پھر آپ نے اسے بادشاہ ذی یزن کو ہدیے میں بھیجا۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4035]
اسحاق بن عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جوڑا بیس سے کچھ زائد اونٹنیاں دے کر خریدا پھر آپ نے اسے بادشاہ ذی یزن کو ہدیے میں بھیجا۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4035]
فوائد ومسائل:
یہ روایت بھی صنعیف ہے، تاہم عمدہ اور قیمتی لباس۔
۔
۔
۔
۔
اگر اسراف کی حد تک نہ پہنچتا ہو، تو مباح ہے اور بالخصوص جب اللہ کی نعمت مال کا اظہار اور شکر کرنا مقصود ہو۔
یہ روایت بھی صنعیف ہے، تاہم عمدہ اور قیمتی لباس۔
۔
۔
۔
۔
اگر اسراف کی حد تک نہ پہنچتا ہو، تو مباح ہے اور بالخصوص جب اللہ کی نعمت مال کا اظہار اور شکر کرنا مقصود ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4035 سے ماخوذ ہے۔