حدیث نمبر: 4034
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " أَنَّ مَلِكَ ذِي يَزَنَ أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً أَخَذَهَا بِثَلَاثَةٍ وَثَلَاثِينَ بَعِيرًا أَوْ ثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ نَاقَةً ، فَقَبِلَهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` شاہ ذی یزن ۱؎ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جوڑا ہدیہ میں بھیجا جسے اس نے ( ۳۳ ) اونٹ یا اونٹنیاں دے کر لیا تھا تو آپ نے اسے قبول فرمایا ۔
وضاحت:
۱؎: ذی یزن حمیری بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ کا نام تھا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´قیمتی لباس پہننے کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ شاہ ذی یزن ۱؎ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جوڑا ہدیہ میں بھیجا جسے اس نے (۳۳) اونٹ یا اونٹنیاں دے کر لیا تھا تو آپ نے اسے قبول فرمایا۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4034]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ شاہ ذی یزن ۱؎ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جوڑا ہدیہ میں بھیجا جسے اس نے (۳۳) اونٹ یا اونٹنیاں دے کر لیا تھا تو آپ نے اسے قبول فرمایا۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4034]
فوائد ومسائل:
یہ روایت سندا صنعیف ہے، اس لیے یہ سارا واقعہ ہی مشکوک ہے۔
یہ روایت سندا صنعیف ہے، اس لیے یہ سارا واقعہ ہی مشکوک ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4034 سے ماخوذ ہے۔