حدیث نمبر: 4033
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، قَالَ : قَالَ لِي أَبِي : " يَا بُنَيَّ لَوْ رَأَيْتَنَا وَنَحْنُ مَعَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَصَابَتْنَا السَّمَاءُ حَسِبْتَ أَنَّ رِيحَنَا رِيحُ الضَّأْنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوبردہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` مجھ سے میرے والد نے کہا : بیٹے ! اگر تم ہمیں دیکھتے اور ہم اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتے اور بارش ہوئی ہوتی تو تم ہم میں بھیڑوں کی بو محسوس کرتے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: کیونکہ ہمارے کپڑے کھالوں اور بالوں کے ہوتے تھے بھیگنے کی وجہ سے ان سے بھیڑ بکریوں کی بو آتی۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللباس / حدیث: 4033
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (2479) ابن ماجه (3562), قتادة عنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 143
تخریج حدیث « سنن الترمذی/صفة القیامة 38 (2479)، سنن ابن ماجہ/اللباس 4 (3562)، (تحفة الأشراف: 9126)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/407، 419) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´اونی اور بال والے کپڑے پہننے کا بیان۔`
ابوبردہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد نے کہا: بیٹے! اگر تم ہمیں دیکھتے اور ہم اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتے اور بارش ہوئی ہوتی تو تم ہم میں بھیڑوں کی بو محسوس کرتے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4033]
فوائد ومسائل:
یہ روایت سندًا ضعیف ہے، تاہم اون کا لباس پہننا جائز ہے، لیکن اگر نیت یہ ہو کہ لوگوں کے سامنے اپنی صوفیت کا اظہار ہو تو حرام ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4033 سے ماخوذ ہے۔