سنن ابي داود
كتاب اللباس— کتاب: لباس سے متعلق احکام و مسائل
باب فِي لُبْسِ الصُّوفِ وَالشَّعْرِ باب: اونی اور بال والے کپڑے پہننے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4032
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْن يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ ، وَحُسَيْنُ بْنُ عَلِي ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مُرَحَّلٌ مِنْ شَعَرٍ أَسْوَدَ " ،وقَالَ حُسَيْنٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے ، آپ پر ایک سیاہ بالوں کی چادر تھی جس میں ( کجاوہ ) کی تصویریں بنی ہوئی تھیں ۔ عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہننے کے لیے کپڑا مانگا ، آپ نے مجھے کتان کے دو کپڑے پہنائے تو میں اپنے کو دیکھتا تو اپنے آپ کو اپنے اور ساتھیوں کے بالمقابل اچھے لباس والا محسوس کرتا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2081 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
امام صاحب مختلف اساتذہ کی سندوں سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ ایک صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیاہ بالوں کا کمبل جس پر پالان کی تصویر بنی ہوئی تھی، اوڑھ کر نکلے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5445]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
مرط: کمبل جو اون، بالوں یا کتان یا ریشم سے بنایا جاتا ہے۔
(2)
مرحل: جس پر پالان کی تصویر بنی ہو، جاندار کی تصویر بنانا حرام ہے، بے جان چیز کی تصویر بنانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(1)
مرط: کمبل جو اون، بالوں یا کتان یا ریشم سے بنایا جاتا ہے۔
(2)
مرحل: جس پر پالان کی تصویر بنی ہو، جاندار کی تصویر بنانا حرام ہے، بے جان چیز کی تصویر بنانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2081 سے ماخوذ ہے۔