سنن ابي داود
كتاب اللباس— کتاب: لباس سے متعلق احکام و مسائل
باب فِي لُبْسِ الشُّهْرَةِ باب: شہرت کے کپڑوں کے پہننے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4030
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، قَالَ : ثَوْبَ مَذَلَّةٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مسدد کا بیان ہے کہ` ابوعوانہ نے ہم سے بیان کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن ذلت کا کپڑا پہنائے گا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´شہرت کے کپڑوں کے پہننے کا بیان۔`
مسدد کا بیان ہے کہ ابوعوانہ نے ہم سے بیان کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن ذلت کا کپڑا پہنائے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4030]
مسدد کا بیان ہے کہ ابوعوانہ نے ہم سے بیان کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن ذلت کا کپڑا پہنائے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4030]
فوائد ومسائل:
لباس شہرت سے مراد ایسا لباس ہے جس کے رنگ یا مخصوص تراش وغیرہ کی وجہ سے دوسروں سے منفرد اور نمایاں نظرآئے، لوگ اس کو خاص نظروں سے دیکھیں اور پہننے والا اس کی وجہ سے اترانے اور تکبر کرنے لگے تو لباس شہرت کہلاتا ہے جو کسی مسلمان کو زیب نہیں دیتا، بالخصوص جب وہ غیر مسلموں کا لباس ہو تو اس کا استعمال کرنا اور قبیح ہے لہذا اس نیت سے اس قسم کا لباس پہننا شرعا ناجائز اور حرام ہوگا۔
لباس شہرت سے مراد ایسا لباس ہے جس کے رنگ یا مخصوص تراش وغیرہ کی وجہ سے دوسروں سے منفرد اور نمایاں نظرآئے، لوگ اس کو خاص نظروں سے دیکھیں اور پہننے والا اس کی وجہ سے اترانے اور تکبر کرنے لگے تو لباس شہرت کہلاتا ہے جو کسی مسلمان کو زیب نہیں دیتا، بالخصوص جب وہ غیر مسلموں کا لباس ہو تو اس کا استعمال کرنا اور قبیح ہے لہذا اس نیت سے اس قسم کا لباس پہننا شرعا ناجائز اور حرام ہوگا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4030 سے ماخوذ ہے۔