حدیث نمبر: 4029
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عِيسَى ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنِ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنِ الْمُهَاجِرِ الشَّامِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ فِي حَدِيثِ شَرِيكٍ يَرْفَعُهُ ، قَالَ : " مَنْ لَبِسَ ثَوْبَ شُهْرَةٍ أَلْبَسَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَوْبًا مِثْلَهُ زَادَ ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ثُمَّ تُلَهَّبُ فِيهِ النَّارُ ".
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` جس نے شہرت اور ناموری کا لباس پہنا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے اسی طرح کا لباس پہنائے گا ۔ شریک کی روایت میں ہے ابن عمر رضی اللہ عنہما اسے مرفوع کرتے ہیں یعنی اپنے قول کے بجائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول قرار دیتے ہیں نیز ابوعوانہ سے یہ اضافہ مروی ہے کہ ” پھر اس کپڑے میں آگ لگا دی جائے گی “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللباس / حدیث: 4029
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (4346), أخرجه ابن ماجه (3607) وللحديث شواھد
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/اللباس 24 (3606)، (تحفة الأشراف: 7464)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/92، 139) (حسن) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 3606 | سنن ابن ماجه: 3607

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3607 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´جو شخص شہرت اور ناموری کے لیے پہنے اس پر وارد وعید کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے دنیا میں شہرت کا لباس پہنا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے ذلت کا لباس پہنائے گا، پھر اس میں آگ بھڑکائے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3607]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: (1)
شہرت کے لباس سے مراد بہت قیمتی لباس بھی ہے کہ لوگ اس کی باتیں کریں اور اس کی ثروت و امارت کی شہرت ہو اور بہت ہلکا اور نکما لباس بھی ہے کہ لوگوں میں اس کے زہد اور بزرگی کی شہرت ہو۔

(2)
ایسا لباس پہننے والے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ اس کی دولت سے مرعوب ہو کر اس کی عزت کریں یا اسے خدا رسیدہ سمجھ کر اس کے آگے عقیدت سے سر جھکائیں۔
اس گناہ کی سزا یہ ہے کہ اسے قیامت کے دن ایسا لباس ملے گا جس کی وجہ سے وہ سب کی نظروں میں ذلیل ہو کر رہ جائے گا۔
جہنم میں جلنے کا عذاب اس کے علاوہ ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3607 سے ماخوذ ہے۔