سنن ابي داود
كتاب اللباس— کتاب: لباس سے متعلق احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي الْقَمِيصِ باب: قمیص اور کرتے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4026
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمُؤْمِنِ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : "لَمْ يَكُنْ ثَوْبٌ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قَمِيصٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قمیص سے زیادہ کوئی اور کپڑا پسند نہ تھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´قمیص اور کرتے کا بیان۔`
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قمیص سے زیادہ کوئی اور کپڑا پسند نہ تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4026]
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قمیص سے زیادہ کوئی اور کپڑا پسند نہ تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4026]
فوائد ومسائل:
اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ چادر اوڑھنے کی نسبت قمیض میں بردہ زیادہ ہوتا ہے اور چادر کی طرح اسے لپیٹنے اور سنھبالنے کا اہتمام بھی نہیں کرنا پڑتا۔
اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ چادر اوڑھنے کی نسبت قمیض میں بردہ زیادہ ہوتا ہے اور چادر کی طرح اسے لپیٹنے اور سنھبالنے کا اہتمام بھی نہیں کرنا پڑتا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4026 سے ماخوذ ہے۔