حدیث نمبر: 4025
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ بْنِ خَالِدٍ الْحَنَفِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ أَحَبُّ الثِّيَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَمِيصُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں` کپڑوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ قمیص پسند تھی ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللباس / حدیث: 4025
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (4328), أخرجه الترمذي (1762)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/اللباس 28 (1763)، (تحفة الأشراف: 18169)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/اللباس 8 (3575)، مسند احمد (306، 317، 318، 321) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1762 | سنن ترمذي: 1763 | سنن ترمذي: 1764 | سنن ابن ماجه: 3575

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3575 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´قمیص اور کرتا پہننے کا بیان۔`
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے (قمیص) سے بڑھ کر کوئی لباس محبوب اور پسندیدہ نہ تھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3575]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ چادر کو سنبھالنا پڑتا ہے جب کہ قمیض پہن کر ہاتھوں کو زیادہ آسانی سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
اور عربوں کی قمیض نیچے تک ہوتی ہے اس لیے اگر موٹے کپڑے کی بنی ہوئی ہو تو تہبند کے بغیر بھی ستر کے اعضاء چھپے رہتے ہیں۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3575 سے ماخوذ ہے۔