حدیث نمبر: 4006
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ . ح وحَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : لِبَنِي إِسْرَائِيلَ { ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا حِطَّةٌ تُغْفَرْ لَكُمْ خَطَايَاكُمْ } " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ عزوجل نے بنی اسرائیل سے فرمایا : «ادخلوا الباب سجدا وقولوا حطة تغفر لكم خطاياكم» ” اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہوو اور زبان سے «حطة» کہو تمہارے گناہ بخش دیئے جائیں گے ( سورۃ البقرہ : ۵۸ ) ۱؎ “ ( بصیغہ واحد مونث غائب مضارع مجہول ) ۔
وضاحت:
۱؎: «تُغْفَرُ» بصیغہ واحد مؤنث غائب مضارع مجہول مشہور قرات جمع متکلم مضارع معروف کے صیغے کے ساتھ ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´باب:۔۔۔`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ عزوجل نے بنی اسرائیل سے فرمایا: «ادخلوا الباب سجدا وقولوا حطة تغفر لكم خطاياكم» ” اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہوو اور زبان سے «حطة» کہو تمہارے گناہ بخش دیئے جائیں گے (سورۃ البقرہ: ۵۸) ۱؎ “ (بصیغہ واحد مونث غائب مضارع مجہول)۔ [سنن ابي داود/كتاب الحروف والقراءات /حدیث: 4006]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ عزوجل نے بنی اسرائیل سے فرمایا: «ادخلوا الباب سجدا وقولوا حطة تغفر لكم خطاياكم» ” اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہوو اور زبان سے «حطة» کہو تمہارے گناہ بخش دیئے جائیں گے (سورۃ البقرہ: ۵۸) ۱؎ “ (بصیغہ واحد مونث غائب مضارع مجہول)۔ [سنن ابي داود/كتاب الحروف والقراءات /حدیث: 4006]
فوائد ومسائل:
جمہور کی معروف قراءت (نَغُفِرُلَکُم) ہے۔
یعنی نون کے فتحہ سے بصیغہ جمع متکلم)۔
اس صورت میں معنی ہوں گے۔
سجدہ کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہوجاو اور لفظ (عربی میں ہے) پکارتے جاو ہم تمہاری خطائیں معاف کرتے دیں گے۔
جمہور کی معروف قراءت (نَغُفِرُلَکُم) ہے۔
یعنی نون کے فتحہ سے بصیغہ جمع متکلم)۔
اس صورت میں معنی ہوں گے۔
سجدہ کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہوجاو اور لفظ (عربی میں ہے) پکارتے جاو ہم تمہاری خطائیں معاف کرتے دیں گے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4006 سے ماخوذ ہے۔