حدیث نمبر: 4003
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءٍ ، أَنَّ مَوْلًى لِابْنِ الْأَسْقَعِ رَجُلَ صِدْقٍ أَخْبَرَهُ ، عَنْ ابْنِ الْأَسْقَعِ أَنَّهُ سَمِعَهُ ، يَقُولُ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُمْ فِي صُفَّةِ الْمُهَاجِرِينَ فَسَأَلَهُ إِنْسَانٌ أَيُّ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ أَعْظَمُ ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´واثلہ بن الاسقع بکری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس مہاجرین کے صفے میں آئے تو آپ سے ایک شخص نے پوچھا : قرآن کی سب سے بڑی آیت کون سی ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «الله لا إله إلا هو الحى القيوم لا تأخذه سنة ولا نوم» ” اللہ ہی معبود برحق ہے اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ زندہ ہے اور سب کو تھامنے والا ہے ، اسے نہ اونگھ آئے نہ نیند “ ( سورۃ البقرہ : ۲۵۵ ) ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´باب:۔۔۔`
واثلہ بن الاسقع بکری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس مہاجرین کے صفے میں آئے تو آپ سے ایک شخص نے پوچھا: قرآن کی سب سے بڑی آیت کون سی ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الله لا إله إلا هو الحى القيوم لا تأخذه سنة ولا نوم» ” اللہ ہی معبود برحق ہے اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ زندہ ہے اور سب کو تھامنے والا ہے، اسے نہ اونگھ آئے نہ نیند “ (سورۃ البقرہ: ۲۵۵) ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحروف والقراءات /حدیث: 4003]
واثلہ بن الاسقع بکری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس مہاجرین کے صفے میں آئے تو آپ سے ایک شخص نے پوچھا: قرآن کی سب سے بڑی آیت کون سی ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الله لا إله إلا هو الحى القيوم لا تأخذه سنة ولا نوم» ” اللہ ہی معبود برحق ہے اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ زندہ ہے اور سب کو تھامنے والا ہے، اسے نہ اونگھ آئے نہ نیند “ (سورۃ البقرہ: ۲۵۵) ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحروف والقراءات /حدیث: 4003]
فوائد ومسائل:
(1) آیت الکرسی اپنی فضیلت اور تاثیر کے لحاظ سے سب سے بڑی ہے، ورنہ طوالت میں آیت مُدَایَنَہ (یاأیھاالذین آمنوا إِذا تَدَایَنْتُم بدَیْنٍ) (البقرة: 282) اس سے زیادہ لمبی ہے۔
(2) قرآن مجید سارا ہی اللہ عزوجل کی جانب سے ہے، مگر مضامین کے اعتبار سے بعض آیات کو دوسری پر فضیلت حاصل ہے
(3) لفظ (القَیوم) میں دوسری قراءت (القَیام) اور القَیَم بھی منقول ہے۔
(1) آیت الکرسی اپنی فضیلت اور تاثیر کے لحاظ سے سب سے بڑی ہے، ورنہ طوالت میں آیت مُدَایَنَہ (یاأیھاالذین آمنوا إِذا تَدَایَنْتُم بدَیْنٍ) (البقرة: 282) اس سے زیادہ لمبی ہے۔
(2) قرآن مجید سارا ہی اللہ عزوجل کی جانب سے ہے، مگر مضامین کے اعتبار سے بعض آیات کو دوسری پر فضیلت حاصل ہے
(3) لفظ (القَیوم) میں دوسری قراءت (القَیام) اور القَیَم بھی منقول ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4003 سے ماخوذ ہے۔