حدیث نمبر: 4001
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ : " أَنَّهَا ذَكَرَتْ أَوْ كَلِمَةً غَيْرَهَا قِرَاءَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : 0 بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ 0 يُقَطِّعُ قِرَاءَتَهُ آيَةً آيَةً " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : سَمِعْتُ أَحْمَدَ يَقُولُ : الْقِرَاءَةُ الْقَدِيمَةُ : مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ سورة الفاتحة آية 4 .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` انہوں نے ذکر کیا یا اس کے علاوہ راوی نے کوئی اور کلمہ کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت یوں ہوتی «بسم الله الرحمن الرحيم * الحمد لله رب العالمين * الرحمن الرحيم * ملك يوم الدين» آپ ہر ہر آیت الگ الگ پڑھتے تھے ( ایک آیت کو دوسری آیت میں ملاتے نہیں تھے ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے احمد کو کہتے سنا ہے کہ پرانی قرآت «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´باب:۔۔۔`
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے ذکر کیا یا اس کے علاوہ راوی نے کوئی اور کلمہ کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت یوں ہوتی «بسم الله الرحمن الرحيم * الحمد لله رب العالمين * الرحمن الرحيم * ملك يوم الدين» آپ ہر ہر آیت الگ الگ پڑھتے تھے (ایک آیت کو دوسری آیت میں ملاتے نہیں تھے)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد کو کہتے سنا ہے کہ پرانی قرآت «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحروف والقراءات /حدیث: 4001]
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے ذکر کیا یا اس کے علاوہ راوی نے کوئی اور کلمہ کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت یوں ہوتی «بسم الله الرحمن الرحيم * الحمد لله رب العالمين * الرحمن الرحيم * ملك يوم الدين» آپ ہر ہر آیت الگ الگ پڑھتے تھے (ایک آیت کو دوسری آیت میں ملاتے نہیں تھے)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد کو کہتے سنا ہے کہ پرانی قرآت «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحروف والقراءات /حدیث: 4001]
فوائد ومسائل:
یہ روایت سندا ضعیف ہے تاہم معنا صیح ہے کیونکہ دیگر صحیح احادیث میں یہی چیز بیان ہوئی ہے کہ قرآن مجید کی قراءت میں چاہیےکہ ہرہر آیت پر وقف کیاجائے اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھا جائے۔
انتہائی تیز پڑھنا اور آیات پر وقف نہ کرنا مسنون طریقے کے خلاف ہے۔
یہ روایت سندا ضعیف ہے تاہم معنا صیح ہے کیونکہ دیگر صحیح احادیث میں یہی چیز بیان ہوئی ہے کہ قرآن مجید کی قراءت میں چاہیےکہ ہرہر آیت پر وقف کیاجائے اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھا جائے۔
انتہائی تیز پڑھنا اور آیات پر وقف نہ کرنا مسنون طریقے کے خلاف ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4001 سے ماخوذ ہے۔