حدیث نمبر: 400
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، قَالَ : " كَانَتْ قَدْرُ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّيْفِ ثَلَاثَةَ أَقْدَامٍ إِلَى خَمْسَةِ أَقْدَامٍ ، وَفِي الشِّتَاءِ خَمْسَةَ أَقْدَامٍ إِلَى سَبْعَةِ أَقْدَامٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اسود کہتے ہیں کہ` عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ( نماز ظہر ) کا اندازہ گرمی میں تین قدم سے پانچ قدم تک اور جاڑے میں پانچ قدم سے سات قدم تک تھا ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ آپ زوال کے بعد جو زیادہ سے زیادہ تاخیر کرتے وہ اسی قدر ہوتی تھی کہ گرمیوں میں سایہ تین سے پانچ قدم اور سردیوں میں پانچ سے سات قدم تک ہوتا تھا، یعنی اصلی سایہ اور زائد دونوں کا مجموعہ ملا کر اس مقدار کو پہنچتا تھا نہ کہ صرف زائد۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 400
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (586)
تخریج حدیث « سنن النسائی/المواقیت 5 (504)، (تحفة الأشراف: 9186) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 504

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´ظہر کے وقت کا بیان۔`
اسود کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی (نماز ظہر) کا اندازہ گرمی میں تین قدم سے پانچ قدم تک اور جاڑے میں پانچ قدم سے سات قدم تک تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 400]
400. اردو حاشیہ:
 علامہ سندھی نے سنن نسائی کے حاشیہ میں ذکر کیا ہےکہ اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ آپ زوال کے بعد جو زیادہ سے زیاد ہ تاخیر کرتے وہ اسی قدر تھی کہ گرمیوں میں سایہ تین سے پانچ قدم اور سردیوں میں پانچ سے سات قدم تک ہوتا تھا۔ اور اس سائے میں اصل اور زائد دونوں سائے شمار ہوئے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 400 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 504 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´ظہر کے اخیر وقت کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ گرمی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ظہر کا اندازہ تین قدم سے پانچ قدم کے درمیان، اور جاڑے میں پانچ قدم سے سات قدم کے درمیان ہوتا۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 504]
504۔ اردو حاشیہ: ➊سورج کے سائے کا حساب ہر علاقے میں الگ الگ ہوتا ہے، البتہ گرمیوں میں زوال کے وقت کم سایہ ہوتا ہے اور سردیوں میں زیادہ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا علاقہ مدینہ منورہ ہے، لہٰذا قدموں کا حساب اس علاقے کے لحاظ ہی سے ہو گا۔ ہمارے ہاں پاکستان میں زوال کے وقت مدینہ منورہ کی نسبت زیادہ سایہ ہوتا ہے۔
➋یہاں سائے سے مراد کل سایہ ہے نہ کہ زوال کے سائے کے علاوہ، البتہ مدینہ منورہ میں گرمیوں میں زوال کا سایہ ایک آدھ قدم ہی ہوتا ہے جب کہ سردیوں میں چار پانچ قدم، گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گرمیوں میں سایۂ زوال سے تین چار قدم مؤخر کرتے تھے اور سردیوں میں ایک دو قدم۔ ہم اپنے علاقے میں زوال کے سائے کے علاوہ مذکورہ حساب سے تاخیر کرسکتے ہیں۔
➌اس سائے سے مراد انسان کا اپنا سایہ ہے۔ ہر آدمی کا قد اپنے سات قدم کے برابر ہوتا ہے۔ قدم سے مراد پاؤں ہے، نہ کہ دو قدموں (پاؤں) کا درمیانی فاصلہ۔
➍علامہ سندھی نے سنن نسائی کے حاشیے میں لکھا ہے کہ اس حدیث کے معنیٰ یہ ہیں کہ آپ زوال کے بعد جو زیادہ سے زیادہ تاخیر کرتے، وہ اسی قدر ہوتی تھی کہ گرمیوں میں سایہ تین سے پانچ قدم اور سردیوں میں پانچ سے سات قدم تک ہوتا تھا اور اس سائے میں اصل اور زائد دونوں سائے شمار ہوتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 504 سے ماخوذ ہے۔