حدیث نمبر: 3991
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُوسَى النَّحْوِيُّ ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا : 0 فَرُوحٌ وَرَيْحَانٌ 0 " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو «فروح وريحان» ” تو عیش و آرام ہے “ ( سورۃ الواقعہ : ۸۹ ) ۱؎ ( راء کے پیش کے ساتھ ) پڑھتے ہوئے سنا ۔

وضاحت:
۱؎: جمہور کی قرات راء کے زبر کے ساتھ ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحروف والقراءات / حدیث: 3991
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, أخرجه الترمذي (2938 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/القراء ات سورة الواقعة 6 (2938)، (تحفة الأشراف: 16204)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/64، 213) (صحیح الإسناد) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2938 | معجم صغير للطبراني: 1080

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´باب:۔۔۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو «فروح وريحان» تو عیش و آرام ہے (سورۃ الواقعہ: ۸۹) ۱؎ (راء کے پیش کے ساتھ) پڑھتے ہوئے سنا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحروف والقراءات /حدیث: 3991]
فوائد ومسائل:
جمہور کی معروف قراءت را کے فتحہ کے ساتھ ہے جس کے معنی راحت وآرام کیے جاتے ہیں۔
اگر (روح) را کے ضمہ کےساتھ پڑھا جائے تو معنی ہوں گے: اس کی روح پھولوں اور نعمتوں میں ہوگی۔
یا اس کے لیے رحمت زندگی اور بقا ہو گی اور نعمتیں ہوں گی۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3991 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2938 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سورۃ الواقعہ میں «فروح» کو راء کے ضمہ کے ساتھ پڑھنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم «فروح وريحان وجنة نعيم» ۱؎ پڑھتے تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب القراءات/حدیث: 2938]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
مشہور قراء ت ﴿فَرَوحٌ﴾ (راء پر فتحہ کے ساتھ) ہے، یعقوب کی قراء ت راء کے ضمہ کے ساتھ ہے، فتحہ کی صورت میں معنی ہے (اسے تو راحت ہے اورغذائیں ہیں اور آرام والی جنت ہے) اورضمہ کی صورت میں معنی ہوگا: ﴿اس کی روح پھولوں اورآرام والی جنت میں نکل کر جائیگی) (الواقعہ: 89)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2938 سے ماخوذ ہے۔