حدیث نمبر: 3990
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ ، سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ يَذْكُرُ ، عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : " قِرَاءَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : 0 بَلَى قَدْ جَاءَتْكِ آيَاتِي فَكَذَّبْتِ بِهَا وَاسْتَكْبَرْتِ وَكُنْتِ مِنَ الْكَافِرِينَ 0 " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : هَذَا مُرْسَلٌ الرَّبِيعُ لَمْ يُدْرِكْ أُمَّ سَلَمَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت «بلى قد جاءتك آياتي فكذبت بها واستكبرت وكنت من الكافرين» ” ہاں بیشک تیرے پاس میری آیتیں پہنچ چکی تھیں جنہیں تو نے جھٹلایا اور غرور و تکبر کیا اور تو تھا ہی کافروں میں سے “ ( سورۃ الزمر : ۵۹ ) ۱؎ ( واحد مونث حاضر کے صیغہ کے ساتھ ) ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ مرسل ہے ، ربیع نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو نہیں پایا ہے ۔
وضاحت:
وضاحت ۱؎: جمہور کی قرات واحد مذکر حاضر کے صیغہ کے ساتھ ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´باب:۔۔۔`
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت «بلى قد جاءتك آياتي فكذبت بها واستكبرت وكنت من الكافرين» ” ہاں بیشک تیرے پاس میری آیتیں پہنچ چکی تھیں جنہیں تو نے جھٹلایا اور غرور و تکبر کیا اور تو تھا ہی کافروں میں سے “ (سورۃ الزمر: ۵۹) ۱؎ (واحد مونث حاضر کے صیغہ کے ساتھ) ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مرسل ہے، ربیع نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو نہیں پایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحروف والقراءات /حدیث: 3990]
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت «بلى قد جاءتك آياتي فكذبت بها واستكبرت وكنت من الكافرين» ” ہاں بیشک تیرے پاس میری آیتیں پہنچ چکی تھیں جنہیں تو نے جھٹلایا اور غرور و تکبر کیا اور تو تھا ہی کافروں میں سے “ (سورۃ الزمر: ۵۹) ۱؎ (واحد مونث حاضر کے صیغہ کے ساتھ) ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مرسل ہے، ربیع نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو نہیں پایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحروف والقراءات /حدیث: 3990]
فوائد ومسائل:
روایت ضعیف الاسناد ہے۔
جمہور کی معروف روایت مذکر کے صیغوں کے ساتھ ہے جن قراء نےمونث کے صیغوں کے ساتھ پڑھا ہے وہ بلحاط لفط (نفس ہے) جو مونث سماعی ہے۔
آیت کریمہ کے معنی ہیں: ہاں کیوں نہیں بلاشبہ تیرے پاس میری آیات آئیں تو تونے انہیں جھٹلایا اور تکبر کیا اور تو کافرتھا۔
روایت ضعیف الاسناد ہے۔
جمہور کی معروف روایت مذکر کے صیغوں کے ساتھ ہے جن قراء نےمونث کے صیغوں کے ساتھ پڑھا ہے وہ بلحاط لفط (نفس ہے) جو مونث سماعی ہے۔
آیت کریمہ کے معنی ہیں: ہاں کیوں نہیں بلاشبہ تیرے پاس میری آیات آئیں تو تونے انہیں جھٹلایا اور تکبر کیا اور تو کافرتھا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3990 سے ماخوذ ہے۔