حدیث نمبر: 3986
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْعُودٍ الْمِصِّيصِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ ، عَنْ مِصْدَعٍ أَبِي يَحْيَى ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " أَقْرَأَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ كَمَا أَقْرَأَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فِي عَيْنٍ حَمِئَةٍ سورة الكهف آية 86مُخَفَّفَةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´مصدع ابویحییٰ کہتے ہیں کہ` میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا وہ کہہ رہے تھے مجھے ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ نے «في عين حمئة» ” دلدل کے چشمہ میں “ ( سورۃ الکہف : ۸۶ ) تخفیف کے ساتھ پڑھایا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مخفف پڑھایا تھا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحروف والقراءات / حدیث: 3986
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (2934), محمد بن دينار اختلط في آخر عمره, والقرآن يؤيد ھذا الحديث, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 142
تخریج حدیث « سنن الترمذی/القراء ات سورة الکھف 3 (2934)، (تحفة الأشراف: 43) (ضعیف) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2934 | معجم صغير للطبراني: 1082

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´باب:۔۔۔`
مصدع ابویحییٰ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا وہ کہہ رہے تھے مجھے ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ نے «في عين حمئة» دلدل کے چشمہ میں (سورۃ الکہف: ۸۶) تخفیف کے ساتھ پڑھایا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مخفف پڑھایا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحروف والقراءات /حدیث: 3986]
فوائد ومسائل:
ابن عامر حمزہ کسائی اور ابوبکر کی قراءت میں یہ لفظ (عربی میں لکھا ہے) وارد ہے۔
(عربی میں لکھا ہے) کا معنی کیچڑ او(عربی میں لکھا ہے) گرم کہتے ہیں(مزید دیکھیے آئندہ حدیث)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3986 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2934 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سورۃ الکہف میں «من لدنی» میں نون کو تشدید کے ساتھ پڑھنے کا بیان۔`
ابی بن کعب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «في عين حمئة» پڑھا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب القراءات/حدیث: 2934]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یہی مشہور قراء ت ہے، یعنی: ﴿حَمِئَةٍ﴾ حاء کے بعد بغیر الف کے، جبکہ بعض قراء کی قراء ت (حَامِئَةٍ) یعنی حاء کے بعد الف غیر مہموزہ کے ساتھ، بہرحال معنی ہے: اور سورج کوایک دلدل کے چشمے میں ڈوبتا پایا۔
 (الکہف: 86)
نوٹ:
(سند میں سعد بن اوس سے غلطیاں ہو جایا کرتی تھیں، اور مصدع لین الحدیث ہیں، مگر اس حدیث کا متن دیگر سندوں سے ثابت ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2934 سے ماخوذ ہے۔