حدیث نمبر: 3985
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَارِيَةِ الْعَبْدِيُّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ حُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّهُ قَرَأَهَا قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي سورة الكهف آية 76 وَثَقَّلَهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «قد بلغت من لدني» ( نون کی تشدید کے ساتھ پڑھا ) اور انہوں نے اسے مشدّد پڑھ کے بتایا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحروف والقراءات / حدیث: 3985
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (2933), قال الترمذي:’’ غريب لانعرفه إلا من ھذا الوجه،وأبو الجارية العبدي البصري:مجهول،لا يعرف له اسم‘‘, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 142
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 42) (ضعیف) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2933

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2933 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سورۃ الکہف میں «من لدنی» میں نون کو تشدید کے ساتھ پڑھنے کا بیان۔`
ابی بن کعب سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا: «قد بلغت من لدني عذرا» ۱؎ یعنی «لدني» کو نون ثقیلہ کے ساتھ پڑھا۔ [سنن ترمذي/كتاب القراءات/حدیث: 2933]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
مشہورقراء ت اسی طرح ہے یعنی نون پرتشدید کے ساتھ لیکن نافع وغیرہ نے اس کو اس طرح پڑھا ہے ﴿مِنْ لَدُنِیْ﴾ یعنی نون پر صرف سادہ زیر کے ساتھ بہرحال معنی ایک ہی ہے، یعنی یقینا آپ میری طرف سے عذرکو پہنچ گئے۔
 (الکہف: 76)
نوٹ:
(سند میں ابوالجاریہ عبدی مجہول راوی ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2933 سے ماخوذ ہے۔