حدیث نمبر: 3978
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ الْعَوْفِيِّ ، قَالَ : " قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ ضَعْفٍ سورة الروم آية 54 ، فَقَالَ : 0 مِنْ ضُعْفٍ 0 قَرَأْتُهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا قَرَأْتَهَا عَلَيَّ ، فَأَخَذَ عَلَيَّ كَمَا أَخَذْتُ عَلَيْكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عطیہ بن سعد عوفی کہتے ہیں کہ` میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے : «الله الذي خلقكم من ضعف» ” اللہ وہی ہے جس نے تمہیں کمزوری کی حالت میں پیدا کیا “ ( سورۃ الروم : ۵۴ ) ( ضاد کے زبر کے ساتھ ) پڑھا تو انہوں نے کہا «مِنْ ضُعْفٍ» ( ضاد کے پیش کے ساتھ ) ہے میں نے بھی اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پڑھا تھا جیسے تم نے پڑھا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری گرفت فرمائی جیسے میں نے تمہاری گرفت کی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´باب:۔۔۔`
عطیہ بن سعد عوفی کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے: «الله الذي خلقكم من ضعف» ” اللہ وہی ہے جس نے تمہیں کمزوری کی حالت میں پیدا کیا “ (سورۃ الروم: ۵۴) (ضاد کے زبر کے ساتھ) پڑھا تو انہوں نے کہا «مِنْ ضُعْفٍ» (ضاد کے پیش کے ساتھ) ہے میں نے بھی اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پڑھا تھا جیسے تم نے پڑھا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری گرفت فرمائی جیسے میں نے تمہاری گرفت کی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحروف والقراءات /حدیث: 3978]
عطیہ بن سعد عوفی کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے: «الله الذي خلقكم من ضعف» ” اللہ وہی ہے جس نے تمہیں کمزوری کی حالت میں پیدا کیا “ (سورۃ الروم: ۵۴) (ضاد کے زبر کے ساتھ) پڑھا تو انہوں نے کہا «مِنْ ضُعْفٍ» (ضاد کے پیش کے ساتھ) ہے میں نے بھی اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پڑھا تھا جیسے تم نے پڑھا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری گرفت فرمائی جیسے میں نے تمہاری گرفت کی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحروف والقراءات /حدیث: 3978]
فوائد ومسائل:
قرآن مجید کے کلمات بلاشبہ عربی زبان کے ہیں اور ان کو ان کے کسی بھی لہجہ میں پڑھنا جائز ہے۔
مگر مطلوب وہی ہے جسے رسول اللہﷺ نے اختیار فرمایا ہے۔
قرآن مجید کے کلمات بلاشبہ عربی زبان کے ہیں اور ان کو ان کے کسی بھی لہجہ میں پڑھنا جائز ہے۔
مگر مطلوب وہی ہے جسے رسول اللہﷺ نے اختیار فرمایا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3978 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2936 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سورۃ الروم کے شانِ نزول کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے «خَلَقَكُمْ مِنْ ضَعْفٍ» (ضاد کے فتحہ کے ساتھ) پڑھا تو آپ نے فرمایا: «مِنْ ضَعْفٍ» نہیں «مِنْ ضُعْفٍ» ۱؎ (ضاد کے ضمہ کے ساتھ) پڑھو۔“ [سنن ترمذي/كتاب القراءات/حدیث: 2936]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے «خَلَقَكُمْ مِنْ ضَعْفٍ» (ضاد کے فتحہ کے ساتھ) پڑھا تو آپ نے فرمایا: «مِنْ ضَعْفٍ» نہیں «مِنْ ضُعْفٍ» ۱؎ (ضاد کے ضمہ کے ساتھ) پڑھو۔“ [سنن ترمذي/كتاب القراءات/حدیث: 2936]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یہی مشہور قراء ت ہے، اور ضاد کے فتحہ کے ساتھ عاصم اور حمزہ کی قراء ت ہے، یعنی: اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے تمہیں کمزوری کی حالت میں پیدا کیا۔
(الروم: 54)
وضاحت:
1؎:
یہی مشہور قراء ت ہے، اور ضاد کے فتحہ کے ساتھ عاصم اور حمزہ کی قراء ت ہے، یعنی: اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے تمہیں کمزوری کی حالت میں پیدا کیا۔
(الروم: 54)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2936 سے ماخوذ ہے۔