حدیث نمبر: 3977
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ : 0 وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنُ بِالْعَيْنِ 0 " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم «وكتبنا عليهم فيها أن النفس بالنفس والعين بالعين» ” اور ہم نے یہودیوں کے ذمہ تورات میں یہ بات مقرر کر دی تھی کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ ہے ” ( سورۃ المائدہ : ۴۵ ) ( عین کے رفع کے ساتھ ) پڑھا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحروف والقراءات / حدیث: 3977
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, انظر الحديث السابق (3976), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 141
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 1572) (ضعیف) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2929 | سنن ابي داود: 3976

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2929 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سورۃ فاتحہ کی قرأت کا بیان۔`
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا: «أن النفس بالنفس والعين بالعين» ۱؎ «بالعين» ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب القراءات/حدیث: 2929]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی: العینُ کی نون پر پیش کے ساتھ، جبکہ یہ (النفس) پر عطف ہے جس کا تقاضا ہے کہ نون پر بھی زبر (فتحہ) پڑھا جائے۔

2؎:
جان کے بدلے جان اورآنکھ کے بدلے آنکھ ہے (المائدۃ: 45)

نوٹ:
(سند میں ابوعلی بن یزید مجہول راوی ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2929 سے ماخوذ ہے۔