حدیث نمبر: 3976
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " قَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : 0 وَالْعَيْنُ بِالْعَيْنِ 0 " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے : «والعين بالعين» ( رفع کے ساتھ ) پڑھا ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: جیسا کہ کسائی کی قرات ہے اور اکثر کے نزدیک نصب کے ساتھ ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحروف والقراءات / حدیث: 3976
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (2929), الزهري عنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 141
تخریج حدیث « سنن الترمذی/القراء ات 1 (2929)، (تحفة الأشراف: 1572)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/215) (ضعیف) » (ابوعلی بن یزید مجہول راوی ہیں )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2929 | سنن ابي داود: 3977

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2929 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سورۃ فاتحہ کی قرأت کا بیان۔`
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا: «أن النفس بالنفس والعين بالعين» ۱؎ «بالعين» ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب القراءات/حدیث: 2929]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی: العینُ کی نون پر پیش کے ساتھ، جبکہ یہ (النفس) پر عطف ہے جس کا تقاضا ہے کہ نون پر بھی زبر (فتحہ) پڑھا جائے۔

2؎:
جان کے بدلے جان اورآنکھ کے بدلے آنکھ ہے (المائدۃ: 45)

نوٹ:
(سند میں ابوعلی بن یزید مجہول راوی ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2929 سے ماخوذ ہے۔