حدیث نمبر: 3975
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ وَهُوَ أَشْبَعُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِيهِ : " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ : غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95 وَلَمْ يَقُلْ سَعِيدٌ كَانَ يَقْرَأُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم «لا يستوي القاعدون من المؤمنين» کے بعد «غير أولي الضرر» پڑھتے تھے ۔ اور سعید بن منصور نے اپنی روایت میں «كان يقرأ» نہیں کہا ہے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: پہلے صرف «لا يستوي القاعدون من المؤمنين»  نازل ہوئی تھی پھر جب لوگوں کو پریشانی ہوئی تو اللہ نے «غير أولي الضرر»  نازل فرما کر آسانی کر دی۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحروف والقراءات / حدیث: 3975
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, انظر الحديث السابق (2507)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3709) (حسن صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´باب:۔۔۔`
زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم «لا يستوي القاعدون من المؤمنين» کے بعد «غير أولي الضرر» پڑھتے تھے۔ اور سعید بن منصور نے اپنی روایت میں «كان يقرأ» نہیں کہا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الحروف والقراءات /حدیث: 3975]
فوائد ومسائل:
اس آیت کریمہ میں لفظ (غیر) زبر کے ساتھ اہل حرمین نافع ابن عامراور کسائی کی قراءت ہے اور یہ حال یا مستشنیٰ ہے جبکہ ابن کثیر ابوعمرو حمزہ اور عاصم اسے مرفوع پرھتےہیں جو کہ قاعدون کی صفت ہے۔
اور ایک قراءت زیر کے ساتھ بھی ہے، مگر شاذ ہے۔
اس صورت میں یہ مومنین کی صفت یا اس کا بدل ہوگا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3975 سے ماخوذ ہے۔